متحدہ عرب امارات

مشرقِ وسطیٰ میں 7 جولائی کے بعد حملوں میں شدت، آبنائے ہرمز سے خلیجی ممالک تک کشیدگی برقرار

خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان 12 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تقریباً 26 روز بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ختم ہو چکا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں 7 جولائی سے دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔

7 جولائی کو ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں مارشل آئی لینڈز، سعودی عرب اور لائبیریا کے پرچم بردار ٹینکر شامل تھے۔

8 جولائی کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں کی تصدیق کی۔ اسی روز بحرین میں تین مرتبہ سائرن بجائے گئے، کویت نے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں 85 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

9 جولائی کو امریکا نے ایران میں مزید تقریباً 90 فوجی اہداف پر حملے کیے، جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائل و ڈرون ذخائر، ساحلی نگرانی کے مراکز اور عسکری انفراسٹرکچر شامل تھے۔ قطر نے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا، کویت نے متعدد میزائل اور ڈرون اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاع دی، جبکہ اردن نے ایرانی میزائل مار گرانے کا اعلان کیا۔

12 جولائی کو بحرین میں دوبارہ فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا، جبکہ این سی ای ایم اے نے واضح کیا کہ تمام خطرات ملکی سرحدوں سے باہر تھے اور اندرونِ ملک صورتحال محفوظ ہے۔

اسی روز قطر نے میزائل حملہ ناکام بنانے کی تصدیق کی، تاہم ملبہ گرنے سے ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں مزید تقریباً 140 فوجی اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے جنوبی ساحلی فوجی اڈوں پر امریکی فضائی حملوں کی تصدیق کی۔

12 جولائی کو عمان کے قریب ایک کنٹینر بردار جہاز کو نقصان پہنچا اور اس میں آگ لگ گئی، جبکہ عمان کے صوبہ مسندم میں ڈرون حملوں کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔ کویت میں سرحدی مراکز اور آئل کمپنی کے آف شور پلیٹ فارم کو بھی ڈرون حملے میں نقصان پہنچا، جس میں ایک کارکن زخمی ہوا۔

13 جولائی کو بحرین میں ایک بار پھر سائرن بجائے گئے اور ایرانی فضائی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ امریکی فوج نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایران کے خلاف نئی کارروائیاں کیں، جبکہ اردن نے مزید چار ایرانی میزائل مار گرانے کی اطلاع دی۔

14 جولائی کو متحدہ عرب امارات نے بتایا کہ اس کے دو آئل ٹینکرز "ممباسا” اور "البحیہ” ایرانی کروز میزائل حملے کا نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملے کا رکن ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں چھ بھارتی اور دو یوکرینی شہری شامل ہیں۔ جہازوں میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا۔

اسی روز بحرین میں صبح کے وقت تین مرتبہ سائرن بجائے گئے، جبکہ اردن کی مسلح افواج نے ایران سے داغے گئے مزید چار میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button