
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں عمان کی سمندری حدود کے اندر جنوبی بحری راستے سے گزرتے ہوئے امارات کے دو آئل ٹینکرز "ممباسا” اور "البحیہ” کو دو ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق حملے میں ممباسا ٹینکر پر سوار ایک بھارتی ملاح ہلاک ہو گیا، جبکہ مجموعی طور پر 8 افراد زخمی ہوئے، جن میں 6 بھارتی اور 2 یوکرینی شہری شامل ہیں۔ زخمیوں میں 4 افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
حملے کے نتیجے میں دونوں ٹینکرز پر آگ بھڑک اٹھی جس سے انہیں مادی نقصان پہنچا، تاہم وزارتِ دفاع کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت نے عوام سے بھی اپیل کی کہ افواہوں یا غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔
دوسری جانب وزارتِ خارجہ نے ایرانی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلااشتعال کارروائی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ایران فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں بند کرے اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیرمشروط طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولے تاکہ علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز کو معاشی دباؤ یا بلیک میلنگ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا قزاقی کے مترادف ہے اور یہ خطے، عالمی توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
امارات نے ہلاک ہونے والے بھارتی ملاح کے اہل خانہ، حکومتِ ہند اور بھارتی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔







