
خلیج اردو
راس الخیمہ کی فوجداری عدالت نے 2025 میں ٹریفک تنازع کے دوران تین شامی خواتین کے قتل کے مقدمے میں عرب ملزم کو قصاص کے تحت سزائے موت سنا دی۔ عدالت نے ملزم کو 66 سالہ خاتون اور ان کی دو بیٹیوں، جن کی عمریں 36 اور 38 سال تھیں، کے منصوبہ بندی کے تحت قتل کا مجرم قرار دیا، جبکہ اسے اقدام قتل اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزامات میں بھی قصوروار ٹھہرایا۔
مقتولہ خاتون کے بیٹے اور دیگر دو مقتول خواتین کے بھائی محمود سالم وفائی نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کے دل کو کچھ سکون ضرور ملا ہے، لیکن کوئی بھی فیصلہ ان کی والدہ اور بہنوں کو واپس نہیں لا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے انصاف کے نظام اور حکام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے قانون کے مطابق مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا۔
محمود نے کہا کہ واقعے کے بعد سے خاندان شدید ذہنی اذیت سے گزر رہا تھا اور وہ جانتے تھے کہ متعدد متاثرین پر مشتمل مقدمے میں قانونی کارروائی میں وقت لگتا ہے۔ ان کے مطابق فیصلے سے انہیں یہ اطمینان ملا کہ انصاف فراہم کیا گیا۔
یہ واقعہ مئی 2025 میں راس الخیمہ کے ایک علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں ایک تنگ راستے سے گاڑی گزرنے کے تنازع پر جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 36 اور 38 سالہ دو بہنیں اور ان کی 66 سالہ والدہ جاں بحق ہو گئیں، جبکہ 47 سالہ تیسری بہن زخمی حالت میں بچ گئیں۔ زخمی خاتون نے اپنے 11 سالہ بیٹے کو موبائل فون دے کر مدد طلب کرنے کی ہدایت کی، جس کے بعد پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
عدالت نے اسی مقدمے میں ملزم کے بیٹے کو دھمکیاں دینے اور بدزبانی کے جرم میں قید اور 10 ہزار درہم جرمانے کی سزا بھی سنائی۔
عدالتی فیصلے کے خلاف 15 روز کے اندر اپیل کی جا سکتی ہے، جبکہ سزائے موت پر عمل درآمد اسی صورت ممکن ہوگا جب اپیل کورٹ اور کورٹ آف کیسیشن بھی ابتدائی فیصلے کو برقرار رکھیں۔






