متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کے دوران آن لائن فراڈ میں اضافہ، جعلی سفری آفرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی دھوکہ دہی سے محتاط رہنے کی ہدایت

خلیج اردو
گرمیوں کی تعطیلات کے آغاز کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات میں آن لائن فراڈ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکام نے عوام کو جعلی سفری آفرز، فرضی رہائش گاہوں کی بکنگ، کم قیمت انشورنس اسکیموں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے کی جانے والی دھوکہ دہی سے خبردار کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی سائبر سکیورٹی کونسل کے مطابق ملک میں 75 فیصد سے زائد سائبر حملے فِشنگ ای میلز اور جعلی پیغامات کے ذریعے کیے جاتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں روزانہ تقریباً 3.4 ارب فِشنگ پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔

کونسل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے فِشنگ پیغامات اب 90 فیصد سے زائد ڈیجیٹل سکیورٹی خلاف ورزیوں کا سبب بن رہے ہیں، کیونکہ یہ پیغامات حقیقی دکھائی دیتے ہیں اور ان کی شناخت کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں 40 ہزار سے زائد افراد مختلف آن لائن فراڈ کا شکار ہوئے، جنہیں مجموعی طور پر لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

ماہرِ ٹیکنالوجی علینہ تیموفیوا کے مطابق گرمیوں میں لوگ زیادہ سفر کرتے ہیں، آن لائن خریداری کرتے ہیں اور تعطیلات کی بکنگ میں مصروف ہوتے ہیں، جس کا فائدہ فراڈ کرنے والے اٹھاتے ہیں۔ ان کے بقول مجرم ٹیکنالوجی سے زیادہ انسانی اعتماد کو نشانہ بناتے ہیں۔

حکام نے اس موسم میں سامنے آنے والے چند عام فراڈ سے بھی خبردار کیا ہے، جن میں سوشل میڈیا پر جعلی چیلیٹ، فارم ہاؤس اور ہالیڈے ہومز کی بکنگ، انتہائی سستی گاڑیوں کی انشورنس کی پیشکش اور جعلی موبائل ایپس کے ذریعے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔

دبئی پولیس نے ایک ایسے واقعے کی نشاندہی کی جس میں ایک شخص جعلی چیلیٹ بکنگ کے نام پر 8 ہزار درہم سے محروم ہو گیا، جبکہ وزارت داخلہ نے شہریوں کو جعلی انشورنس کمپنیوں سے بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ابوظبی اور دبئی پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں ون ٹائم پاس ورڈ، متحدہ عرب امارات پاس کی منظوری، بینک پن، کارڈ کا سی وی وی نمبر یا پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، کیونکہ کوئی بھی سرکاری ادارہ یا بینک فون، پیغام یا واٹس ایپ پر یہ معلومات طلب نہیں کرتا۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی آفر پر فوری فیصلہ کرنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کریں، صرف لائسنس یافتہ اداروں سے بکنگ کریں اور مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر دبئی پولیس کے ای کرائم پلیٹ فارم یا متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button