
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں خاندانی قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران طلاق کی وجوہات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ جہاں پہلے بے وفائی کو طلاق کی بڑی وجہ سمجھا جاتا تھا، اب جذباتی دوری، کمزور رابطہ، مالی دباؤ، بدلتی توقعات اور ڈیجیٹل مصروفیات ازدواجی تعلقات کے ٹوٹنے کی اہم وجوہات بن چکی ہیں۔
خاندانی وکیل سمارہ اقبال کے مطابق آج کل بے وفائی اکثر طلاق کی بنیادی وجہ نہیں بلکہ پہلے سے کمزور ہو چکے رشتے کی ایک علامت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان جوڑے جذباتی تعلق کی کمی، مؤثر گفتگو نہ ہونے، مالی مسائل اور ازدواجی زندگی سے متعلق مختلف توقعات کے باعث علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے بھی ازدواجی تعلقات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ لوگ بظاہر دنیا سے مسلسل جڑے رہتے ہیں، لیکن ایک دوسرے سے جذباتی طور پر دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی افراد اپنی شادی شدہ زندگی کا موازنہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی مثالی زندگیوں سے کرتے ہیں، جس سے مایوسی اور اختلافات بڑھتے ہیں۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ اکثر شادیوں میں مسائل طلاق سے بہت پہلے شروع ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلی علامت مؤثر رابطے کا ختم ہونا، جذباتی دوری اور میاں بیوی کا ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے محض ساتھیوں کی طرح زندگی گزارنا ہے۔ چھوٹے چھوٹے حل طلب اختلافات وقت کے ساتھ گہری ناراضی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
بین الاقوامی خاندانی وکیل بائرن جیمز کے مطابق حالیہ قانونی اصلاحات کے بعد کئی جوڑوں کو اب طلاق کے لیے کسی ایک فریق کا قصور ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اس وجہ سے عدالتوں میں اب بے وفائی یا ظلم جیسے الزامات کے بجائے عدم مطابقت، مختلف زندگی کے اہداف اور وقت کے ساتھ تعلقات ختم ہونے جیسے اسباب زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات بھی ازدواجی تنازعات کو بڑھا رہی ہیں۔ بڑھتے اخراجات، کرایوں اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پہلے سے موجود اختلافات کو مزید نمایاں کر دیتے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی نے خفیہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس، واٹس ایپ پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کو بھی طلاق کے مقدمات کا حصہ بنا دیا ہے۔
قانونی ماہرین کا مشورہ ہے کہ بروقت گفتگو، باہمی اعتماد، مشاورت اور پیشہ ورانہ کونسلنگ کے ذریعے بہت سے ازدواجی مسائل کو سنگین ہونے سے پہلے حل کیا جا سکتا ہے۔







