متحدہ عرب امارات

ابوظہبی میں رنرز نے فیفا ورلڈ کپ سے متاثر ہو کر "منی ورلڈ کپ” سجا لیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی شدید گرمی کے باوجود ابوظہبی کے رنرز نے فیفا ورلڈ کپ 2026 سے متاثر ہو کر دو ہفتوں پر مشتمل منفرد "رننگ ورلڈ کپ” کا انعقاد کیا، جس میں گول کرنے کے بجائے مختلف ممالک کی نمائندگی کرنے والی ٹیموں نے زیادہ سے زیادہ کلومیٹر دوڑ کر مقابلہ کیا۔

Adidas Runners Abu Dhabi کے زیر اہتمام ہونے والے مقابلے میں چار، چار افراد پر مشتمل ٹیموں نے مراکش، میکسیکو، اسپین اور دیگر ممالک کی نمائندگی کی۔ تمام رنز کو ایڈیڈاس رننگ ایپ کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا جبکہ ٹیم کپتانوں نے ہر رن کی تصدیق کی۔

مقابلے کے اختتام پر ٹیم میکسیکو نے صرف دو ہفتوں میں 1,036 کلومیٹر دوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ ٹیم مراکش تقریباً 972 کلومیٹر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ تیسرے اور چوتھے نمبر کی ٹیموں کے درمیان صرف چار کلومیٹر کا فرق رہا۔

41 سالہ انجینئر عمران شکیر نے اپنی ٹیم مراکش کے لیے تقریباً 330 کلومیٹر دوڑ لگائی، جس میں ایک ہی دن میں 100 کلومیٹر کی الٹرا رن بھی شامل تھی، جسے مکمل کرنے میں انہیں تقریباً 13 گھنٹے لگے۔

عمران شکیر نے ایک تربیتی سیشن کے دوران ابوظہبی سے دبئی تک رات بھر دوڑ بھی مکمل کی۔ انہوں نے شام 4 بجے سفر شروع کیا اور اگلی صبح تقریباً 7 بجے دبئی پہنچے۔

دوسری جانب سبھاش زنجاد نے ٹیم میکسیکو کے لیے تقریباً 320 کلومیٹر دوڑ کر اپنی ٹیم کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ٹیم کے ارکان روزانہ لیڈر بورڈ دیکھ کر اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے اور ضرورت پڑنے پر رات کو دوبارہ دوڑنے نکل جاتے تھے۔

منتظمین کے مطابق مقابلے کا سب سے بڑا مقصد صرف زیادہ کلومیٹر دوڑنا نہیں بلکہ رنرز کے درمیان ٹیم ورک، باہمی تعاون اور کمیونٹی اسپرٹ کو فروغ دینا تھا۔ زیادہ تر طویل دورانیے کی دوڑیں ابوظہبی سمر اسپورٹس کے انڈور ٹریک پر کرائی گئیں تاکہ شدید گرمی سے محفوظ ماحول میں تربیت جاری رکھی جا سکے۔

کامیاب تجربے کے بعد منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ اس منفرد "رننگ ورلڈ کپ” کو آئندہ ہر سال کسی نہ کسی بڑے عالمی کھیلوں کے ایونٹ کے ساتھ منسلک کر کے منعقد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button