
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں GLP-1 ادویات جیسے Ozempic، Wegovy اور Mounjaro کے بڑھتے استعمال نے فٹنس انڈسٹری کا رجحان بدل دیا ہے۔ دبئی کے فٹنس ماہرین کا کہنا ہے کہ اب صرف وزن کم کرنا مقصد نہیں بلکہ جسمانی عضلات (Muscles) کو محفوظ رکھنا، جسمانی ساخت بہتر بنانا اور طویل مدتی صحت پر توجہ دی جا رہی ہے۔
تین بار اولمپئن اور Roar Fitness کی بانی سارہ لنڈسے کے مطابق چند سال پہلے نئے آنے والے افراد کے لیے چربی کم کرنا اولین ترجیح ہوتی تھی، مگر اب GLP-1 ادویات استعمال کرنے والوں کے لیے سب سے اہم ہدف عضلات کو محفوظ رکھنا اور جسمانی طاقت برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ادویات بھوک کم کرتی ہیں لیکن جسم کو مضبوط نہیں بناتیں، اس لیے اگر طاقت بڑھانے والی ورزش (Resistance Training) نہ کی جائے تو وزن کے ساتھ ساتھ عضلات بھی کم ہونے لگتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اب ٹرینرز ورزش کا پروگرام بنانے سے پہلے مریض کی بھوک، توانائی اور دوا کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں، جبکہ پروٹین سے بھرپور غذا اور مناسب آرام پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر کنگنی بھدرن کا کہنا ہے کہ GLP-1 ادویات موٹاپے کے علاج میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں، تاہم انہیں صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مریض مناسب مقدار میں پروٹین استعمال نہ کریں اور ہفتے میں کم از کم دو سے تین بار طاقت بڑھانے والی ورزش نہ کریں تو عضلات کی کمی، میٹابولزم میں سستی، جسمانی کمزوری اور علاج ختم ہونے کے بعد دوبارہ وزن بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے اس رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض افراد طبی ضرورت کے بغیر صرف ظاہری طور پر دبلے ہونے کے لیے یہ ادویات استعمال کر رہے ہیں، جبکہ یہ دوائیں فوری حل نہیں بلکہ مکمل طبی نگرانی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کے ساتھ ہی مؤثر اور محفوظ ثابت ہوتی ہیں۔







