
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے انشورنس ماہرین نے گرمیوں کی تعطیلات میں بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ ٹریول انشورنس صرف ویزا کی شرط پوری کرنے کے لیے نہ خریدیں بلکہ پالیسی کی تمام شرائط اور سہولیات کا بغور جائزہ لیں۔
eSanad کے چیف ایگزیکٹو انس مستریحی کا کہنا ہے کہ سستی پالیسی خرید کر چند درہم بچانا بعد میں ہزاروں درہم کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق ٹریول انشورنس کا مقصد صرف ویزا حاصل کرنا نہیں بلکہ بیماری، سرجری یا ہنگامی طبی انخلا جیسے مہنگے اخراجات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹریول انشورنس خریدتے وقت صرف طبی اخراجات اور سامان کے تحفظ کو نہ دیکھیں بلکہ یہ بھی یقینی بنائیں کہ پالیسی میں ہنگامی طبی انخلا، سفر منسوخ ہونے، سفر مختصر کرنے، ذاتی ذمہ داری اور ایڈونچر سرگرمیوں جیسے اسکیئنگ، اسکوبا ڈائیونگ اور ٹریکنگ کی کوریج بھی شامل ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور کینیڈا جیسے مہنگے طبی اخراجات والے ممالک کا سفر کرنے والوں کو کم از کم 250 ہزار سے 500 ہزار امریکی ڈالر تک کی میڈیکل کوریج رکھنے پر غور کرنا چاہیے، جبکہ دیگر مقامات کے لیے بھی کم از کم 100 ہزار امریکی ڈالر کی ایمرجنسی میڈیکل کوریج مناسب سمجھی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیشتر انشورنس کلیمز اس لیے مسترد ہو جاتے ہیں کیونکہ مسافر پہلے سے موجود بیماری ظاہر نہیں کرتے، پالیسی میں شامل نہ ہونے والی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، بروقت انشورنس کمپنی کو اطلاع نہیں دیتے یا ضروری دستاویزات محفوظ نہیں رکھتے۔
ماہرین نے ہدایت کی کہ اگر بیرونِ ملک اسپتال میں داخل ہونا پڑ جائے تو فوری علاج کرائیں اور ساتھ ہی انشورنس کمپنی کی 24 گھنٹے دستیاب ہیلپ لائن سے رابطہ کریں تاکہ اسپتال کے ساتھ براہِ راست ادائیگی کا انتظام کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات سے ایک ہفتے کے بین الاقوامی سفر کے لیے جامع (Comprehensive) ٹریول انشورنس کی قیمت عموماً 75 سے 200 درہم کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ فیملی پلان تقریباً 190 درہم سے شروع ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معمولی اضافی رقم ادا کرکے بہتر طبی سہولیات، سامان کے تحفظ، سفر میں تاخیر، ہنگامی انخلا اور دیگر اہم فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔







