
خلیج اردو
کویت سٹی: کویت نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی ایک رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے "مکمل طور پر غلط” قرار دیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کویت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
کویت کی امریکہ میں سفیر شیخہ الزین الصباح نے وال اسٹریٹ جرنل کے اداریہ بورڈ کو ایک سرکاری خط ارسال کیا ہے جس میں اخبار سے اپنی رپورٹ کی تصحیح کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ "بحرین اور کویت کے جنگی طیاروں نے ایران پر حملہ کیا، خلیجی ممالک کا غیر معمولی جوابی اقدام” کے عنوان سے 24 جولائی کو شائع ہوئی تھی۔
کویتی سرکاری خبر رساں ایجنسی کونا (KUNA) کے مطابق شیخہ الزین الصباح نے اپنے خط میں واضح کیا کہ رپورٹ میں کیے گئے دعوے "مکمل طور پر بے بنیاد اور حقیقت کے منافی” ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو، درست اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ صرف صحافتی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق غلط معلومات عوامی رائے کو بین الاقوامی امن اور سلامتی سے متعلق حساس معاملات میں گمراہ کر سکتی ہیں۔
کویتی سفیر نے ایک بار پھر اپنے ملک کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کویت نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی اپنی سرزمین، فضائی حدود یا علاقائی پانیوں کو کسی ہمسایہ ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
شیخہ الزین الصباح کے مطابق کویت کی خارجہ پالیسی بین الاقوامی قانون کے احترام، ریاستی خودمختاری کے تحفظ، اچھے ہمسایہ تعلقات کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں سے تنازعات کے انسانی اور معاشی نقصانات برداشت کرنے والے خطے میں کویت کا یہ پختہ یقین ہے کہ علاقائی سلامتی کشیدگی بڑھانے سے نہیں بلکہ سفارتی مذاکرات، مکالمے اور باہمی تعاون کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
کویت نے عالمی میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ خطے سے متعلق حساس معاملات میں حقائق کی درست جانچ پڑتال کو یقینی بنائے تاکہ غلط فہمیوں اور غیر ضروری کشیدگی سے بچا جا سکے۔







