متحدہ عرب امارات

یو اے ای: قبل از وقت پیدا ہونے والے مزید بچے زندہ بچ رہے ہیں، مگر برسوں کی بحالی ضروری قرار

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں جدید نوزائیدہ طبی سہولیات (Neonatal Care) کی بدولت انتہائی قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی بقا کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے بچوں کو جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر بنانے کے لیے کئی برس تک خصوصی بحالی (ری ہیبلیٹیشن) کی ضرورت پڑتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سیہا کے سلمیٰ ری ہیبلیٹیشن اسپتال میں زیر علاج بچوں میں تقریباً ایک تہائی ایسے ہیں جو قبل از وقت پیدا ہوئے تھے اور مختلف جسمانی، اعصابی یا نشوونما سے متعلق مسائل کے باعث مسلسل علاج حاصل کر رہے ہیں۔

اماراتی خاتون نورا العامری کی بیٹی الیازیہ اس کی ایک مثال ہے، جو حمل کے صرف 23 ہفتے اور 3 دن بعد پیدا ہوئی۔ پیدائش کے وقت اس کا وزن صرف 580 گرام تھا اور وہ تقریباً ایک سال تک اسپتال میں زیر علاج رہی، جہاں اسے مصنوعی سانس، فیڈنگ ٹیوب اور بعد ازاں کئی ماہ تک بحالی کے علاج کی ضرورت پڑی۔

الیازیہ کا جڑواں بھائی حمد بھی قبل از وقت پیدا ہوا تھا، مگر اس کی نشوونما نسبتاً بہتر رہی، جبکہ الیازیہ کو حرکت کرنے میں تاخیر کا سامنا ہے۔ اب 19 ماہ کی عمر میں وہ خود سانس لے رہی ہے، معمول کے مطابق خوراک کھا رہی ہے اور آؤٹ پیشنٹ ری ہیبلیٹیشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

سلمیٰ ری ہیبلیٹیشن اسپتال کے قائم مقام چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر دانش محمد سمیع کے مطابق جدید طبی سہولیات نے انتہائی قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن ان میں سے بہت سے بچوں کو بعد میں جسمانی نشوونما میں تاخیر، خوراک نگلنے میں دشواری، دائمی پھیپھڑوں کی بیماری، اعصابی مسائل، دماغی فالج (Cerebral Palsy) اور حسی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے ابتدائی برس دماغی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اس لیے جلد بحالی کا عمل شروع کرنے سے بچوں کی حرکت، گفتگو، خوراک لینے اور دیگر صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

برجیل میڈیکل سٹی کی نیونیٹولوجسٹ ڈاکٹر اولاینکا کوواباری کا کہنا ہے کہ اب توجہ صرف بچوں کی جان بچانے پر نہیں بلکہ انہیں بہتر زندگی گزارنے کے قابل بنانے پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق فالو اپ علاج کوئی اضافی مرحلہ نہیں بلکہ علاج کا لازمی حصہ ہے، کیونکہ بعض مسائل کئی ماہ یا برس بعد سامنے آتے ہیں۔

اسی طرح دانات الامارات اسپتال کے نیونیٹولوجسٹ ڈاکٹر ایویانو اوسویٹا نے کہا کہ حمل، نوزائیدہ انتہائی نگہداشت اور سانس کی جدید سہولیات نے گزشتہ دہائی میں بقا کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم ایسے بچوں کی باقاعدہ نشوونما کی نگرانی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔

ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے کو دودھ پینے میں مشکل ہو، وزن نہ بڑھ رہا ہو، جسم غیر معمولی طور پر سخت یا ڈھیلا محسوس ہو، ہاتھ پاؤں کی حرکت محدود ہو، الٹنے، بیٹھنے یا رینگنے میں تاخیر ہو، آنکھوں سے کم رابطہ کرے یا پہلے سیکھی ہوئی صلاحیتیں کھونے لگے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

ڈاکٹروں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے بچوں کی نشوونما کا جائزہ ان کی اصل متوقع تاریخِ پیدائش (Corrected Age) کے مطابق لیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف پیدائش کی تاریخ کے مطابق، تاکہ ان کی ترقی کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button