متحدہ عرب امارات

راس الخیمہ کے پہاڑوں میں انگور کی کاشت کو فروغ، مقامی نرسری ہر سیزن میں 10 ہزار سے زائد پودے تیار کرنے لگی

راس الخیمہ کے پہاڑی علاقے عاصمہ میں انگور کی فصل کے آغاز کے ساتھ ہی مقامی انگور کے پودوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مقامی کاشتکار مروان سیف راشد المزروعی کا کہنا ہے کہ ان کی نرسری اب ہر سیزن میں 10 ہزار سے زائد مقامی انگور کے پودے تیار کر رہی ہے، جبکہ طلب اب بھی رسد سے زیادہ ہے۔

مروان المزروعی نے بتایا کہ اس سال انگور کی برداشت کا سیزن مئی میں شروع ہوا اور جون تک جاری رہا۔ ان کے مطابق گرمی زیادہ ہو تو انگور جلد پک جاتے ہیں جبکہ معتدل موسم میں برداشت کا دورانیہ طویل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیاری انگور کی پیداوار کے لیے فروری میں بیلوں کی بھرپور کانٹ چھانٹ، مناسب کھاد اور کیڑوں سے تحفظ ضروری ہوتا ہے، جس کے بعد مئی میں پھل آنا شروع ہو جاتا ہے۔

عاصمہ کا علاقہ خالص مقامی اماراتی سرخ اور سبز انگور کی اقسام کے لیے مشہور ہے۔ فارم پر موجود بعض اصل بیلیں 25 سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔

مروان المزروعی نے بتایا کہ روایتی اقسام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اقسام کے انگور بھی آزمائے جا رہے ہیں، تاہم ان کی پیداوار ابھی محدود ہے کیونکہ بیلیں نئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے ان کی نرسری سالانہ صرف 500 پودے تیار کرتی تھی، لیکن اب ہر سیزن میں 10 ہزار سے زائد پودے تیار کیے جاتے ہیں، اس کے باوجود طلب پوری نہیں ہو پا رہی۔

ان کے مطابق فارم پر موجود 30 سے 40 بالغ بیلوں میں سے ہر ایک اوسطاً 30 کلوگرام انگور پیدا کرتی ہے، تاہم پیداوار کا انحصار موسمی حالات پر ہوتا ہے۔

مروان المزروعی نے بتایا کہ وہ تجارتی بنیادوں پر انگور فروخت نہیں کرتے بلکہ زیادہ توجہ مقامی انگور کے پودے تیار کرنے پر دیتے ہیں۔ یہ ہنر انہوں نے اپنے والد سے سیکھا اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اس شعبے کو وسعت دی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مقامی سرخ انگور نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں مگر ان کے پودے جلد بڑھتے ہیں، جبکہ مقامی سبز انگور کا پھل بڑا ہوتا ہے لیکن اس کے پودوں کو مکمل نشوونما پانے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

نرسری میں مقامی سرخ اور سبز انگور کے مختلف سائز کے پودے دستیاب ہوتے ہیں، جبکہ نئی کھیپ ہر سال ستمبر اور اکتوبر میں شجرکاری کے موسم کے آغاز پر تیار کی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button