متحدہ عرب امارات

یو اے ای گولڈن ویزا ہولڈر کا آجر کے خلاف ایک لاکھ درہم ہرجانے کا دعویٰ مسترد

خلیج اردو
ابوظہبی کی عدالت نے ایک ملازم کی جانب سے کمپنی کے خلاف دائر کیے گئے ایک لاکھ درہم ہرجانے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ملازم کا مؤقف تھا کہ کمپنی کی جانب سے غلط طریقے سے ملازمت ختم کیے جانے کے باعث اسے مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

ملازم کے مطابق اس نے کمپنی کے ساتھ 11 جولائی 2024 سے دو سالہ ملازمت کا معاہدہ کیا تھا۔ اگست 2025 میں اسے متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا ملا۔ گولڈن ویزا کے عمل کے دوران موجودہ ورک کنٹریکٹ، رہائشی ویزا اور ورک پرمٹ عارضی طور پر منسوخ کرنا پڑا۔

ملازم کا دعویٰ تھا کہ کمپنی نے اس سے اتفاق کیا تھا کہ گولڈن ویزا جاری ہونے کے بعد نیا ملازمت کا معاہدہ اور ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا۔

تاہم جب ملازم نے یو اے ای کی انولنٹری لاس آف ایمپلائمنٹ (ILOE) انشورنس سے فوائد حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا تو اسے بتایا گیا کہ اس کا ملازمت کا معاہدہ 11 اگست 2025 کو ختم ہو چکا تھا اور کوئی نیا معاہدہ رجسٹر نہیں کیا گیا۔

ملازم کے مطابق ایک ماہ سے زائد وقت گزرنے کی وجہ سے انشورنس کمپنی نے اس کا دعویٰ پالیسی قوانین کے تحت مسترد کر دیا۔

ملازم کا مؤقف

عدالت میں دائر درخواست میں ملازم نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے ملازمت ختم کیے جانے کے باعث وہ بے روزگاری انشورنس کے فوائد سے محروم ہو گیا اور سعودی عرب میں 45,975 درہم ماہانہ تنخواہ والی ملازمت کا موقع بھی ضائع ہو گیا۔

اس نے عدالت سے درخواست کی کہ کمپنی کو مالی نقصان کے ازالے کے طور پر ایک لاکھ درہم ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

کمپنی کا جواب

کمپنی نے کسی بھی غلط اقدام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملازمت کا خاتمہ قانونی طریقے سے کیا گیا تھا اور ملازم کو تحریری نوٹس بھی دیا گیا تھا۔

کمپنی کے مطابق ملازم نے یو اے ای کے لیبر قوانین کے مطابق نوٹس پیریڈ بھی مکمل کیا، جبکہ وہ مالی نقصان یا سعودی عرب میں مبینہ ملازمت کے موقع کے ضائع ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

عدالت کا فیصلہ

ابوظہبی فیملی، سول اینڈ ایڈمنسٹریٹو کلیمز کورٹ نے ملازم کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملازم یہ ثابت نہیں کر سکا کہ کمپنی نے گولڈن ویزا کے بعد نیا معاہدہ جاری کرنے کا کوئی وعدہ کیا تھا یا اسے حقیقی نقصان پہنچایا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملازم نے نہ تو کمپنی کی کسی غلطی کو ثابت کیا اور نہ ہی مبینہ مالی نقصان کے شواہد پیش کیے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملازم کے اپنے بیان کے مطابق ورک کنٹریکٹ اور ورک پرمٹ کی منسوخی گولڈن ویزا حاصل کرنے کے لیے دونوں فریقوں کی رضامندی سے ہوئی تھی، اس لیے اسے کمپنی کی غلطی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے سعودی عرب میں ملازمت کے موقع کے ضائع ہونے اور بے روزگاری انشورنس کے نقصان سے متعلق دعووں کے لیے بھی ناکافی شواہد قرار دیے۔

ایک لاکھ درہم کے ہرجانے کے دعوے کو مسترد کرنے کے ساتھ عدالت نے ملازم کو عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button