
خلیج اردو
11 سالہ وینزویلا کے بچے جواکوئن نے دو سال سے زائد عرصہ قبل اپنے خاندان کے ہمراہ وطن چھوڑا اور دریا، جنگلاتی راستوں اور کئی ممالک کی سرحدیں عبور کرنے کے بعد میکسیکو پہنچا جہاں اب اسے محفوظ رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
جواکوئن کی سب سے بڑی خواہش دوبارہ اسکول جانا ہے جبکہ مستقبل میں وہ فٹبالر بننے کا خواب دیکھتا ہے۔ میکسیکو میں قائم ایک پناہ گاہ میں اسے محفوظ رہائش، دیگر بچوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع اور بچوں کی مدد کے لیے تربیت یافتہ افراد کی معاونت حاصل ہے۔
شارجہ سے تعلق رکھنے والی خالد بن سلطان القاسمی ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے مطابق جواکوئن کی کہانی لاطینی امریکا میں سفر کرنے والے ہزاروں تارک وطن بچوں کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔
فاؤنڈیشن نے بتایا کہ محفوظ رہائش، صحت کی سہولیات، تعلیم اور قابل اعتماد بڑوں کی عدم موجودگی میں ایسے بچوں کے انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور دیگر استحصال کا شکار ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
فاؤنڈیشن کے Guardians of Children پروگرام کے تحت میکسیکو میں تقریباً 7 ہزار تارک وطن بچوں اور نوعمروں کی مدد کی جائے گی۔
فاؤنڈیشن کے مطابق 2024 کے پہلے 9 ماہ کے دوران میکسیکو میں بچوں اور نوعمروں سے متعلق غیر قانونی ہجرت کے ایک لاکھ 13 ہزار 500 سے زائد کیسز ریکارڈ کیے گئے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 78.6 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں تقریباً 6 ہزار 700 بچے اکیلے سفر کررہے تھے۔
فاؤنڈیشن نے Plan International کے تعاون سے میکسیکو سٹی، تپچولا اور سیوداد خواریز میں محفوظ مراکز قائم کیے ہیں جہاں بچوں کو نفسیاتی مدد، موبائل طبی سہولیات اور خصوصی تحفظ کی خدمات تک رسائی فراہم کی جارہی ہے۔
فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر لوجان مراد نے کہا کہ جواکوئن کی کہانی ہزاروں بچوں کو درپیش صورتحال کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور بروقت تحفظ کسی بچے کی زندگی میں فیصلہ کن فرق پیدا کرسکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جواکوئن کو انسانی اسمگلنگ کا متاثرہ قرار نہیں دیا جارہا بلکہ اس کی مثال ایسے بچے کے طور پر دی جارہی ہے جو مناسب مدد نہ ملنے کی صورت میں اسمگلروں اور استحصال کا شکار ہوسکتا ہے۔







