
خلیج اردو
یو اے ای میں اگست کے دوران پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ماہ کمی کا امکان ہے تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود کمی محدود رہنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق جولائی میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت تقریباً 87 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ جون میں یہ اوسط 85 ڈالر تھی۔ ایران سے متعلق کشیدگی، علاقائی شپنگ روٹس میں رکاوٹوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔
سینچری فنانشل کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر وجے ویلیچا کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا کچھ اثر اگست کے پیٹرول نرخوں پر پڑ سکتا ہے تاہم کم انوینٹری اور مارکیٹ میں قیمتوں کی سست ایڈجسٹمنٹ کے باعث پمپ پر کمی محدود رہنے کا امکان ہے۔
ان کے مطابق اگر جولائی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہی تو یو اے ای میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل دوسری کمی ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں اسپیشل 95 تقریباً 3.13 درہم فی لیٹر اور سپر 98 تقریباً 3.24 درہم فی لیٹر تک آسکتا ہے۔
جولائی میں جنگ بندی کے بعد یو اے ای میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔ اس وقت سپر 98 کی قیمت 3.40 درہم، اسپیشل 95 کی 3.29 درہم اور ای پلس کی 3.21 درہم فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 3.60 درہم فی لیٹر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جغرافیائی سیاسی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کشیدگی میں دوبارہ اضافہ خام تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جاسکتا ہے۔
ایلیویٹ فنانشل سروسز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو مدھر ککڑ کے مطابق اگست میں برینٹ کی قیمت 90 ڈالر کے آس پاس رہنے کا امکان ہے جبکہ کسی نئی کشیدگی کی صورت میں یہ دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای میں اگست کے پیٹرول نرخ عالمی تیل کی قیمتوں اور خلیجی خطے کی صورتحال سے جڑے رہیں گے۔ اگر خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہوئی اور علاقائی کشیدگی میں کمی آئی تو صارفین کو پیٹرول کی قیمتوں میں مزید نمایاں ریلیف مل سکتا ہے۔







