متحدہ عرب امارات

13 میٹر بلند لہریں اور 268 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی ہوائیں، سپر ٹائفون ڈولفن مشرقی ایشیا کی جانب بڑھنے لگا

خلیج اردو
مشرقی ایشیا کے کئی ممالک اور علاقے بحرالکاہل میں بننے والے ایک اور طاقتور موسمی نظام کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں جو اب سپر ٹائفون میں تبدیل ہوچکا ہے۔

سپر ٹائفون ڈولفن وسطی بحرالکاہل میں ویک آئی لینڈ کے قریب انتہائی شدید طوفان کی شکل اختیار کرچکا ہے اور مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے جنوبی جاپان، شمالی تائیوان اور سرزمین چین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ طوفان کے باعث سمندر میں انتہائی شدید طغیانی اور بلند لہریں پیدا ہو رہی ہیں جن سے سمندری علاقوں اور جزائر کو خطرہ ہے۔

امریکی جوائنٹ ٹائفون وارننگ سینٹر (JTWC) کے مطابق جمعرات کو سپر ٹائفون ڈولفن کے باعث 13 میٹر بلند لہریں اٹھ رہی تھیں جبکہ طوفان کی مستقل ہواؤں کی رفتار 268 کلومیٹر فی گھنٹہ اور جھکڑوں کی رفتار 324 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔

جوائنٹ ٹائفون وارننگ سینٹر کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران طوفان مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ سپر ٹائفون ڈولفن کے آئندہ ہفتے کے آغاز میں مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک کو براہ راست متاثر کرنے کا امکان ہے۔

سپر ایل نینو کا اثر

سپر ٹائفون ڈولفن رواں سال وسطی اور مغربی بحرالکاہل میں بننے والا تیسرا سپر ٹائفون ہے اور اس کے اپریل میں آنے والے سپر ٹائفون سنلاکو اور جولائی میں آنے والے سپر ٹائفون باوی سے بھی زیادہ طاقتور ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سپر ٹائفون سنلاکو کے باعث مغربی بحرالکاہل کے خطے میں مجموعی طور پر 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاکتیں گوام، شمالی ماریانا جزائر اور فیڈریٹڈ اسٹیٹس آف مائیکرونیشیا سمیت مختلف علاقوں میں ہوئیں۔

جولائی میں آنے والے سپر ٹائفون باوی کے نتیجے میں ایشیا میں کم از کم 23 سے 26 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کئی افراد لاپتہ بھی ہوئے۔ فلپائن میں طوفان کے باعث شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس وقت بحرالکاہل سپر ایل نینو کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی طور پر طاقتور موسمی کیفیت ہے جس میں وسطی اور مشرقی خط استوا کے قریب بحرالکاہل کے سمندری پانی کا اوسط درجہ حرارت معمول سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

سپر ایل نینو مجموعی طور پر سمندری طوفانوں کی تعداد میں لازمی طور پر اضافہ نہیں کرتا لیکن ایسے حالات پیدا کرسکتا ہے جو بعض طوفانوں کو غیر معمولی طور پر طاقتور بنا کر سپر ٹائفون میں تبدیل کردیتے ہیں۔

سمندری سرگرمیوں پر نظر

سپر ٹائفون ڈولفن سے مشرقی سرزمین چین میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ علاقہ ابھی تک سپر ٹائفون باوی کے اثرات سے مکمل طور پر بحال نہیں ہوا۔

Hellenic Shipping News کے مطابق فوری خدشات میں سامان کی ترسیل میں تاخیر، لنگر انداز ہونے کے مقامات پر رش میں اضافہ اور بحرالکاہل میں جہازوں کی دستیابی میں کمی شامل ہے۔

جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے بھی اوگاساوارا جزائر کے قریب سمندری حالات انتہائی خراب ہونے، طاقتور سمندری لہروں اور بلند موجوں سے متعلق خبردار کیا ہے۔

جاپانی حکام کے مطابق موجودہ موسمی نظام کے رخ اور ہواؤں کی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپر ٹائفون ڈولفن زیادہ تر سمندر میں ہی خطرہ بنا رہے گا تاہم بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں پر ممکنہ بالواسطہ اثرات کے لیے اس کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

ویتنام کے نیشنل سینٹر فار ہائیڈرو میٹرولوجیکل فورکاسٹنگ نے خبردار کیا ہے کہ سپر ٹائفون ڈولفن آئندہ ہفتے بحیرہ جنوبی چین میں داخل ہوئے بغیر مشرقی سمندر میں تیز ہواؤں اور بلند لہروں کا سبب بن سکتا ہے۔

دوسری جانب فلپائن کے موسمیاتی ماہر بینیسن ایسٹاریجا کے مطابق سپر ٹائفون ڈولفن فلپائن کے ایریا آف ریسپانسبلٹی سے گزر سکتا ہے تاہم مقامی موسم پر اس کے کسی بڑے اثر کا امکان نہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button