
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں موسم گرما کی شدید گرمی کے دوران جہاں بیشتر لوگ ایئرکنڈیشنڈ مقامات کا رخ کرتے ہیں وہیں ایک ہائیکر نے گرمی سے بچنے کے لیے پہاڑوں کا رخ کرلیا۔
انجینئر، آؤٹ ڈور کانٹینٹ کریئیٹر اور یو اے ای ٹریل رننگ کمیونٹی کے بانی میتھیو مے گرمیوں میں بھی ملک کی بلند ترین چوٹیوں پر ہائیکنگ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ بلندی پر جانے سے درجہ حرارت اور نمی نسبتاً کم محسوس ہوتی ہے جس سے شدید گرمی سے کچھ دیر کے لیے نجات مل جاتی ہے۔
میتھیو مے کے مطابق پہاڑوں پر چڑھنا انہیں ذہنی سکون، آزادی اور خوبصورت مقامات پر فٹ رہنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم گرما میں وہ صرف ایک ہزار میٹر سے زیادہ بلندی والے پہاڑی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
شدید گرمی کے باعث وہ اپنی ہائیکنگ کا آغاز عموماً رات 2 بجے یا سورج غروب ہونے کے بعد شام 5 سے 6 بجے کے درمیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق گرمیوں میں پہاڑوں پر جانا محض ہائیکنگ نہیں بلکہ گرمی سے بچنے کے لیے مناسب بلندی تک پہنچنے کی کوشش بھی ہے۔
میتھیو کے مطابق ہائیکنگ کے دوران سب سے اہم چیز پانی کی مقدار اور واپسی میں لگنے والا وقت ہے۔ وہ ہر وقت یہ حساب رکھتے ہیں کہ ان کے پاس کتنا پانی موجود ہے اور وہ کتنی دور تک محفوظ طریقے سے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گرمی میں پہاڑوں پر ہائیکنگ جسمانی طاقت سے زیادہ ذہنی تیاری کا امتحان ہے۔ تاہم سخت گرمی میں زیادہ مشقت کے باعث انہیں بعض اوقات چکر آنے اور بے ہوشی کے قریب پہنچنے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ایسے حالات میں وہ فوری طور پر لیٹ کر دل کی دھڑکن کم کرنے، پانی سے جسم کو ٹھنڈا کرنے اور پانی کے ساتھ شوگر اور نمکیات کی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خطرات کم کرنے کے لیے میتھیو گرمیوں میں صرف انہی راستوں پر ہائیکنگ کرتے ہیں جنہیں وہ سردیوں میں پہلے مکمل کرچکے ہوں۔ ان کے مطابق نئے راستے آزمانا شدید گرمی میں خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ راستے، فاصلے اور متوقع وقت کا پہلے سے علم ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے نئے اور کم تجربہ کار ہائیکرز کو گرمیوں میں پہاڑوں پر جانے سے سختی سے خبردار کیا ہے۔ ان کے مطابق غیر تربیت یافتہ افراد کے لیے موسم گرما میں ہائیکنگ انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے اور ماضی میں ایسے واقعات میں ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔
میتھیو نے کہا کہ جو لوگ پھر بھی ہائیکنگ کا فیصلہ کریں انہیں ضرورت سے زیادہ پانی اور کھانے پینے کی اشیا، مکمل چارج موبائل فون، فرسٹ ایڈ کٹ، دھوپ سے بچاؤ کا سامان اور GPS واچ لازمی ساتھ رکھنی چاہیے۔
انہوں نے اکیلے ہائیکنگ کرنے سے بھی گریز کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ جانے سے پہلے گھر والوں یا دوستوں کو اپنے روٹ اور منصوبے سے ضرور آگاہ کرنا چاہیے۔
میتھیو کے مطابق جن افراد کو پہاڑوں پر ہائیکنگ کا کم از کم دو سے تین سال کا تجربہ نہیں ان کے لیے موسم گرما میں ہائیکنگ سے مکمل گریز بہتر ہے۔
انہوں نے یو اے ای کی بلند ترین چوٹی جبل جیس کو نسبتاً بہتر انتخاب قرار دیا جہاں بلندی پر موسم گرما میں درجہ حرارت نسبتاً بہتر رہتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق گرمی میں یہاں بھی ہائیکنگ صبح ساڑھے 8 بجے سے پہلے مکمل کرنا یا غروب آفتاب کے قریب آغاز کرکے رات میں ٹریک مکمل کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
میتھیو مے کے مطابق پہاڑ قدرتی حسن سے بھرپور ضرور ہیں لیکن شدید گرمی میں یہ ایک خطرناک ماحول بھی بن سکتے ہیں جس کے لیے مکمل تیاری اور احتیاط ضروری ہے۔






