متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں بنگلہ دیشی شہریوں کے ویزا منسوخ ہونے کی اطلاعات، سفارتخانے نے ڈیٹا جمع کرنا شروع کردیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں بعض بنگلہ دیشی شہریوں کے ویزے منسوخ ہونے کی اطلاعات کے بعد ابوظبی میں بنگلہ دیشی سفارتخانے نے متاثرہ شہریوں سے ان کی رہائش اور ویزا سے متعلق معلومات طلب کرلی ہیں۔

بنگلہ دیشی سفارتخانے نے 31 جولائی کو جاری خصوصی اعلامیے میں کہا کہ مختلف ذرائع سے یو اے ای میں مقیم بعض بنگلہ دیشی شہریوں کے ویزے منسوخ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور سفارتخانہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔

سفارتخانے کے مطابق متاثرہ افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے اس معاملے سے متعلق ایک درست، قابل اعتماد اور تازہ ترین ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔

متاثرہ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی معلومات جلد از جلد سفارتخانے کے سرکاری ای میل ایڈریس پر بھیجیں۔ جن افراد نے پہلے ہی مطلوبہ معلومات جمع کرا دی ہیں انہیں دوبارہ معلومات بھیجنے کی ضرورت نہیں۔

درخواست جمع کراتے وقت ای میل کے موضوع میں “Visa Cancellation Issue – [Your Name]” لکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سفارتخانے نے متاثرہ افراد سے نام، پاسپورٹ نمبر، ایمریٹس آئی ڈی نمبر، پیشہ، کمپنی یا اسپانسر کا نام، اسپانسر کا موبائل نمبر، ویزا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، ویزا منسوخی کی تاریخ، موجودہ مقام، بنگلہ دیش کا آخری دورہ، موبائل یا واٹس ایپ نمبر اور ای میل ایڈریس سمیت دیگر معلومات طلب کی ہیں۔

یہ پیش رفت سفارتخانے کی جانب سے اس سے قبل جاری کیے گئے ایک مشورے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ان بنگلہ دیشی شہریوں کے ویزا منسوخ ہونے کی اطلاعات کا ذکر کیا گیا تھا جو تعطیلات یا دیگر وجوہات کی بنا پر یو اے ای سے باہر تھے۔

سفارتخانے کے مطابق حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ویزا منسوخی کسی تکنیکی مسئلے کے باعث ہوئی یا اس کے پیچھے کوئی مخصوص وجہ موجود ہے۔

بنگلہ دیشی حکومت، وزارت خارجہ، وزارت برائے تارکین وطن کی بہبود اور متعلقہ حکام بھی معاملے سے آگاہ ہیں اور صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

سفارتخانے نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے درست اور تصدیق شدہ معلومات موصول ہونے کے بعد مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

حکام نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں اور نامکمل معلومات سے بھی خبردار کیا ہے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ویزا اور رہائشی معاملات سے متعلق معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اور بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات کے قوانین و ضوابط کی پابندی کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button