متحدہ عرب امارات

دبئی پولیس نے آن لائن فراڈ میں استعمال ہونے والے 103 سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کردیئے

خلیج اردو
دبئی پولیس نے آن لائن فراڈ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران فراڈ میں استعمال ہونے والے 103 سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کردیئے۔

پولیس کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں فراڈ، سائبر کرائم، معاشی جرائم اور دیگر بڑے جرائم میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم پولیس نے جرائم کی مجموعی تعداد یا ہر کیٹیگری میں کمی کی شرح ظاہر نہیں کی۔

یہ اعداد و شمار میجر جنرل حارب محمد الشمسی کی زیر صدارت کارکردگی کے جائزہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔ وہ دبئی پولیس میں کرمنل افیئرز کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف ہیں۔

پولیس نے جرائم میں کمی کی وجہ ٹارگٹڈ فیلڈ آپریشنز، پیشگی تحقیقات، عوامی آگاہی مہمات اور مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو قرار دیا۔

دبئی پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران مصنوعی ذہانت اور جرائم سے متعلق ڈیٹا کے تجزیے کا استعمال بھی بڑھایا جا رہا ہے تاکہ نئے خطرات کی بروقت نشاندہی کی جاسکے اور پولیس صرف جرائم کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے انہیں پہلے سے روکنے کے قابل ہوسکے۔

امریکا میں سوشل میڈیا فراڈ سے 2.1 ارب ڈالر کا نقصان

سوشل میڈیا کے ذریعے فراڈ کا مسئلہ صرف متحدہ عرب امارات تک محدود نہیں۔ امریکا میں فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے مطابق 2025 میں فراڈ کے نتیجے میں رقم گنوانے والے تقریباً 30 فیصد افراد نے بتایا کہ فراڈ کا آغاز سوشل میڈیا سے ہوا تھا۔

سوشل میڈیا فراڈ سے رپورٹ ہونے والا مالی نقصان 2.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو 2020 کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے۔

سوشل میڈیا سے شروع ہونے والے سرمایہ کاری فراڈ میں 1.1 ارب ڈالر کا نقصان رپورٹ ہوا جو مجموعی نقصان کے نصف سے زیادہ ہے۔ خریداری سے متعلق فراڈ سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا معاملہ تھا اور 40 فیصد سے زیادہ متاثرین نے بتایا کہ انہوں نے سوشل میڈیا اشتہار دیکھ کر کوئی چیز خریدنے کا آرڈر دیا تھا۔

جعلی ویزوں، چھٹیوں اور انشورنس کے نام پر فراڈ

دبئی پولیس کی جانب سے 103 اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کے ذریعے جعلی خدمات اور فرضی پیشکشوں کے اشتہارات کے خلاف مسلسل آگاہی دی جارہی ہے۔

18 جولائی کو دبئی پولیس نے جعلی اشتہارات سے خبردار کیا تھا جن میں ملازمت، رہائشی اور وزٹ ویزوں کے حصول کی پیشکش کے عوض رقم طلب کی جارہی تھی۔ فراڈ کرنے والے غیر لائسنس یافتہ کمپنیوں کے نام استعمال یا سرکاری اداروں کی نقالی کرکے لوگوں کو جعلی ویزا خدمات کے لیے رقم ادا کرنے پر آمادہ کر رہے تھے۔

پولیس نے جعلی ٹریول ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے جو انتہائی کم قیمت پر تعطیلات، ہوٹل اور ایئرلائن ٹکٹ فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سفر کی بکنگ لائسنس یافتہ ایجنسیوں اور قابل اعتماد پلیٹ فارمز کے ذریعے کریں، ویب سائٹ کا ایڈریس اچھی طرح چیک کریں اور دباؤ میں آکر فوری ادائیگی سے گریز کریں۔

16 جون کو دبئی پولیس نے سوشل میڈیا پر انتہائی کم قیمتوں پر جعلی موٹر اور ہیلتھ انشورنس پالیسیوں کی تشہیر سے بھی خبردار کیا تھا۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ رقم منتقل کرنے سے پہلے کمپنی یا بروکر کا متحدہ عرب امارات میں لائسنس ضرور چیک کریں۔

غیر تصدیق شدہ ویزا آپریٹرز کے خلاف بھی کارروائی

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز نے بھی سوشل میڈیا پر غیر مجاز ویزا اور رہائشی خدمات کی تشہیر کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی ہے۔

ادارے کے مطابق تحقیقات کے دوران مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر متعدد خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔ حکام نے خبردار کیا کہ غیر تصدیق شدہ آپریٹرز شہریوں کو استحصال اور سرکاری طریقہ کار سے متعلق غلط معلومات کا شکار بنا سکتے ہیں۔

آن لائن فراڈ کی صورت میں کیا کریں؟

میجر جنرل حارب محمد الشمسی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ غیر قابل اعتماد افراد یا اداروں کے ساتھ ذاتی اور بینکنگ معلومات شیئر نہ کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔

پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ رقم منتقل کرنے سے پہلے کمپنی، بروکر یا سروس فراہم کرنے والے کی تصدیق سرکاری ذرائع سے کریں، خاص طور پر اس وقت جب کوئی اشتہار غیر معمولی طور پر کم قیمت یا فوری ادائیگی کا مطالبہ کرے۔

مشکوک آن لائن فراڈ کی اطلاع دبئی پولیس کی اسمارٹ ایپ، ای کرائم پلیٹ فارم یا 901 پر کال کرکے دی جاسکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button