
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی میڈیا اتھارٹی نے میڈیا مواد کے مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی پر دو افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
اتھارٹی کے مطابق دونوں افراد نے سوشل میڈیا پر لائیو نشریات کے دوران ایسا مواد پیش کیا جو اماراتی ثقافت کے لیے نامناسب اور توہین آمیز تھا۔
قومی میڈیا اتھارٹی کے مطابق نشر کیا گیا مواد تہذیبی ورثے، متحدہ عرب امارات کی قومی شناخت اور معاشرتی اقدار سے متعلق مقررہ معیار کے خلاف تھا۔
قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ خلاف ورزی کرنے والے ایک فرد کو جاری کیا گیا تشہیری اجازت نامہ بھی تین ماہ کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔
قومی میڈیا اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو صرف زیادہ ویوز یا انگیجمنٹ حاصل کرنے کے لیے ایسا مواد نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچائے، تنازع پیدا کرے یا قومی شناخت اور اصولوں کو متاثر کرے۔
حکام نے شہریوں اور رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بظاہر معمولی نظر آنے والا تبصرہ یا پوسٹ بھی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں پولیس کیس بن سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں آن لائن بدنامی اور سائبر کرائمز سے متعلق قوانین کے تحت بھاری جرمانے، قید اور غیر ملکیوں کی صورت میں ملک بدری تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ بعض خلاف ورزیوں میں جرمانے 5 لاکھ درہم تک پہنچ سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
- مذہبی عقائد اور اقدار کا احترام
- ثقافتی ورثے کا احترام
- قومی اتحاد کا تحفظ
- ریاستی نظام کا احترام
- خارجہ تعلقات کا خیال رکھنا
- افواہوں اور جعلی خبروں سے گریز
- رازداری کے قوانین کی پابندی
- قانونی اور سیکیورٹی نظام کا احترام
- ریاستی ہدایات پر عمل کرنا
- ملکی قوانین کی پاسداری
یو اے ای کے میڈیا اور آن لائن مواد کے قوانین
متحدہ عرب امارات میں میڈیا اور آن لائن مواد کو کنٹرول کرنے کے لیے دو اہم قوانین موجود ہیں۔
میڈیا ریگولیشن قانون:
یہ قانون ریاست میں میڈیا سرگرمیوں کے تمام شعبوں کو منظم کرتا ہے اور اداروں و افراد کے حقوق اور ذمہ داریاں واضح کرتا ہے۔ اس کے تحت ذمہ دار میڈیا آزادی کی اجازت ہے، تاہم اسے ملکی قوانین اور معاشرتی اقدار کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔
افواہوں اور سائبر کرائمز سے متعلق قانون:
یہ قانون الیکٹرانک ذرائع سے جھوٹی خبریں پھیلانے، دوسروں یا ریاست کے خلاف جرائم اور آن لائن خلاف ورزیوں کو جرم قرار دیتا ہے۔ اس کا مقصد ریاستی سلامتی، استحکام، افراد کی عزت اور رازداری کا تحفظ ہے۔







