
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اس وقت جاری ہیں اور ان کے مطابق یہ بات چیت تہران کی درخواست پر ہورہی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے لیے مذاکرات کو "آخری موقع” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی فوجی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوجاتا یا ایران مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔
ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ ایران نے مذاکرات کی درخواست کی تھی، جبکہ ایران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کے بعد انہوں نے تہران کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہورہے بلکہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ مذاکرات سے انکار کرکے اپنی "روایتی باتیں” کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پہلے ہی امریکی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہے اور ایران کے لیے راستہ صرف معاہدے یا مکمل سرنڈر کی صورت میں ممکن ہوگا۔
امریکی صدر نے ایران کو "دوغلا پن” کا الزام دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دراصل ایک ایسے مسئلے کے حل کے لیے بات کر رہا ہے جو ان کے مطابق ایران نے کئی دہائیوں سے پیدا کیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی۔ اس سے قبل ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ بڑے حملوں کا عندیہ دیا تھا تاہم ہفتے کے روز انہوں نے علاقائی ممالک اور تہران کی مبینہ اپیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔







