
خلیج اردو
ایئر انڈیا کی فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی پرواز اے آئی 2379 کو 4 اگست کو دورانِ پرواز اچانک شدید ٹربولنس کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں طیارے کی بلندی میں اچانک تبدیلی آئی اور بعض مسافر اور عملے کے ارکان معمولی زخمی ہو گئے۔
ایئر انڈیا کے ترجمان کے مطابق پرواز میں ٹربولنس سے متعلق ایک مختصر لیکن اچانک صورتحال پیش آئی جس کے نتیجے میں تھوڑی تعداد میں مسافر اور عملے کے ارکان معمولی زخمی ہوئے۔
ایئر لائن کے مطابق زخمی مسافروں کو معائنے کے لیے ایئرپورٹ پر موجود طبی مرکز منتقل کیا گیا۔ ایئر انڈیا نے واضح کیا ہے کہ کسی کو بھی شدید نوعیت کی چوٹ نہیں آئی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں جن میں مسافروں کو ایمبولینسز سے اترتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی سمیت بعض ذرائع نے ایسی فوٹیج بھی جاری کی جس میں ایئرپورٹ ٹرمینل کے گیٹ پر ایمبولینسز اور وہیل چیئرز موجود دکھائی دیں۔
ایک مسافر نے لینڈنگ کے بعد اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ٹربولنس اچانک اور انتہائی شدید تھی۔ مسافر کے مطابق طیارہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے سے فضا میں تھا اور بیشتر مسافر سو رہے تھے جب اچانک جہاز ایک جانب جھکا اور تقریباً دو سے تین منٹ تک اسی طرح حرکت کرتا رہا۔
مسافر نے دعویٰ کیا کہ واقعے میں تقریباً 15 سے 20 مسافر زخمی ہوئے۔ اس کے مطابق ایک بچے کو بھی چوٹ لگی جبکہ اسے خود کمر کے نچلے حصے اور اس کے بھائی کو کندھے اور کمر پر چوٹ آئی۔ تاہم ان دعوؤں کی حتمی تصدیق میڈیکل رپورٹس سامنے آنے کے بعد ہی ہو سکے گی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض غیر مصدقہ تصاویر اور ویڈیوز میں طیارے کے اندرونی حصے کو بھی نقصان پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے، جہاں چھت پر دراڑیں اور ڈینٹ نظر آ رہے ہیں۔
ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت اور فلاح و بہبود اس کی اولین ترجیح ہے۔ ایئر لائن کے مطابق متاثرہ افراد کو تمام ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔







