متحدہ عرب امارات

دبئی پولیس نے صبح ساڑھے 3 بجے کی خاموش ہوتی کال سے بے ہوش خاتون کو تلاش کر لیا

خلیج اردو
دبئی پولیس نے ٹیکنالوجی اور فوری ردعمل کی مدد سے ایک ایسی خاتون کی جان بچا لی جو رات 3 بج کر 30 منٹ پر مدد کے لیے فون کرنے کے بعد بے ہوش ہو گئی تھیں۔

خاتون نے دبئی پولیس کے آپریشن روم میں فون کرکے انتہائی کمزور آواز میں عربی زبان میں صرف اتنا بتایا کہ وہ ایک چوراہے پر موجود ہیں، تاہم بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ان کی آواز خاموش ہو گئی۔

کال ہینڈلر نے تین سیکنڈ کے اندر کال وصول کی اور خاتون کی آواز سے اندازہ لگا لیا کہ صورتحال سنگین ہے۔ بار بار مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کے باوجود اسے صرف کمزور کراہنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور پھر خاتون نے جواب دینا بند کر دیا۔

دبئی پولیس کے ایمرجنسی کال لوکیشن سسٹم کی مدد سے خاتون کے موبائل فون کا مقام ند الشبا کے علاقے میں ٹریس کیا گیا جو شیخ محمد بن زاید روڈ کے قریب واقع ہے۔

پولیس اہلکاروں نے یہ بھی جانچنے کی کوشش کی کہ آیا خاتون کا فون نمبر دبئی پولیس کے ایسے مریضوں کے ڈیٹا بیس میں رجسٹرڈ ہے جنہیں سنگین طبی مسائل لاحق ہیں، تاہم کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

کال ہینڈلر نے فوری طور پر قریبی تمام پولیس گشت کرنے والی ٹیموں کو الرٹ کیا اور انہیں علاقے میں تلاش کا حکم دیا۔ خاص طور پر شیخ محمد بن زاید روڈ سے نکلنے والے راستوں اور داخلی مقامات پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اسی دوران ایمرجنسی کال بھی منسلک رکھی گئی تاکہ خاتون کی جانب سے کسی بھی آواز یا حرکت کا سراغ مل سکے۔

چند ہی منٹ میں ایک پولیس گشتی ٹیم نے ایک جگہ کھڑی اور لاک گاڑی تلاش کر لی۔ کال کھلی ہونے کے باعث آپریٹر کو گاڑی کی کھڑکی پر پولیس اہلکاروں کے دستک دینے کی آواز سنائی دی۔

پولیس نے گاڑی کے اندر خاتون کو بے ہوش حالت میں پایا۔ فوری طور پر ریسکیو ٹیم کو طلب کیا گیا اور اگرچہ گاڑی سرکاری سڑکوں سے دور ریتلے علاقے میں موجود تھی، امدادی اہلکار تیزی سے وہاں پہنچ گئے۔

ریسکیو ٹیم نے گاڑی کھولی اور خاتون کو بحفاظت باہر نکال کر طبی امداد فراہم کی۔

بعد میں حکام نے تصدیق کی کہ خاتون کے بلڈ شوگر میں شدید کمی واقع ہوئی تھی جس کے باعث وہ بے ہوش ہو گئی تھیں۔

یہ واقعہ لیفٹیننٹ جنرل ضاحی خلفان تمیم کی کتاب Operations Management in Critical Incidents, Crises and Disasters میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

ضاحی خلفان نے ذاتی طور پر خاتون کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اسپتال پہنچنے کے بعد ان کی خیریت دریافت کی۔ صحت یاب ہونے کے بعد خاتون نے پولیس ٹیم سے بات کرتے ہوئے فوری کارروائی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پولیس بہت تیزی سے پہنچی اور انہیں موت سے بچا لیا۔

دبئی پولیس نے اس واقعے کی مثال دیتے ہوئے سنگین طبی مسائل میں مبتلا افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے کوائف Critical Medical Cases Programme میں رجسٹر کرائیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں امدادی ٹیمیں ضروری طبی معلومات تک تیزی سے رسائی حاصل کر سکیں۔

دبئی پولیس کے مطابق ٹیکنالوجی اور تیز رفتار ایمرجنسی سسٹمز ایسے حالات میں زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جب متاثرہ شخص اپنی درست جگہ یا صورتحال بیان کرنے کے قابل نہ ہو۔

ایسے ہی ایک اور واقعے میں روس کے شہر کازان میں موجود عبداللہ بورقیبہ نے دبئی پولیس کی Your Security at the Touch of a Button ایمرجنسی ایپ کے ذریعے دبئی میں موجود الوصل اسپورٹس کلب کے ایک کھلاڑی کے لیے فوری مدد طلب کی تھی جسے ہنگامی سرجری کی ضرورت تھی۔

عبداللہ بورقیبہ دبئی سے 3,600 کلومیٹر سے زیادہ دور ہونے کے باوجود دبئی پولیس نے متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کرکے کھلاڑی کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں مدد کی۔

دبئی پولیس کی اسمارٹ ایپ میں موجود SOS فیچر صارفین کو فوری طور پر ہنگامی الرٹ بھیجنے کے ساتھ اپنی درست GPS لوکیشن بھی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آپریشنز کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تک پہنچانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

یہ سروس خاص طور پر ایسے حالات میں مددگار ہے جب کوئی شخص اپنی جگہ یا صورتحال کی وضاحت کرنے کے قابل نہ ہو اور اسے فوری مدد کی ضرورت ہو۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button