متحدہ عرب امارات

ابوظہبی عدالت کا بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا سے ہٹانے کا حکم

خلیج اردو
ابوظہبی کی عدالت نے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے والدین کو خبردار کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنا دیا۔

ابوظہبی سول فیملی کورٹ نے طلاق یافتہ والدین کو اپنی بیٹیوں کی تصاویر، ویڈیوز اور ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر شائع کرنے سے روک دیا جبکہ پہلے سے موجود ایسا مواد بھی حذف کرنے کا حکم دیا جو بچوں کے بہترین مفاد کے لیے نقصان دہ ہو۔

عدالت نے والدین کو بچوں کے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے سے بھی روک دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ ایسا کوئی اکاؤنٹ بنانے کے لیے دونوں والدین کی باہمی رضامندی ضروری ہوگی۔

عدالت کا فیصلہ متحدہ عرب امارات کے وڈیمہ چائلڈ رائٹس قانون کے تحت بچوں کی رازداری، وقار اور تحفظ کے اصولوں پر مبنی ہے۔

وکلاء کے مطابق یہ پہلا معلوم فیصلہ ہے جس میں اماراتی عدالت نے دونوں والدین کو بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے روکنے کے ساتھ پہلے سے موجود مواد بھی حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔

مقدمے میں والد نے بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست کی تھی جبکہ والدہ نے مؤقف اختیار کیا کہ والد بھی بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کر چکے ہیں۔

عدالت نے کسی ایک والدین کا ساتھ دینے کے بجائے دونوں کو بچوں کی پرائیویسی کے تحفظ کا پابند قرار دیا اور ایسا مواد شائع کرنے سے روک دیا جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

وکیل کے مطابق عدالت کے حکم کا اطلاق صرف تجارتی یا تشہیری مواد تک محدود نہیں بلکہ بچوں کے لیے نقصان دہ کسی بھی آن لائن اشاعت پر ہوگا، چاہے اس سے کوئی مالی فائدہ حاصل کیا جا رہا ہو یا نہیں۔

عدالت نے خبردار کیا ہے کہ اگر والدین میں سے کوئی مستقبل میں حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو دوسرا فریق دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں ممکنہ کارروائی میں قید اور مشترکہ تحویل ختم کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

قانونی ماہرین نے متحدہ عرب امارات میں تمام والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں سے متعلق پہلے سے موجود آن لائن مواد کا جائزہ لیں اور ایسی تصاویر یا ویڈیوز حذف کریں جو بچوں کی رازداری یا عزت کو متاثر کر سکتی ہوں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نئی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے دوسرے والدین کی تحریری رضامندی حاصل کرنا بہتر ہے جبکہ بچے کے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے سے بھی گریز کیا جائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button