
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی کے باوجود مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش نے شہریوں کو حیران کردیا۔
ملک میں بدھ کو درجہ حرارت 51.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا تاہم فجیرہ اور ابوظہبی کے الظفرہ ریجن سمیت کئی علاقوں میں بادل چھائے رہے اور بارش ہوئی۔
اسٹورم سینٹر کی جانب سے جاری ویڈیوز میں فجیرہ کے مختلف علاقوں میں تیز بارش دیکھی جاسکتی ہے جبکہ الظفرہ میں بھی بادلوں کے ساتھ معتدل بارش ریکارڈ کی گئی۔
فجیرہ میں شیخ خلیفہ روڈ پر بھی شدید بارش ہوئی جس کے باعث سڑکوں کے کنارے پانی جمع ہوگیا جبکہ ڈرائیورز نے بارش کے دوران احتیاط سے گاڑیاں چلائیں۔
قومی مرکز برائے موسمیات نے بارش اور خطرناک موسمی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں اورنج اور یلو الرٹس جاری کیے تھے۔
موسمیاتی مرکز کے مطابق مشرقی اور مغربی علاقوں میں رات 10 بجے تک بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ تیز ہوائیں چل سکتی ہیں جس کے باعث گرد آلود موسم اور حد نگاہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ابوظہبی پولیس نے بارش کے دوران ڈرائیورز کو محتاط رہنے اور سڑکوں پر نصب الیکٹرانک بورڈز اور ٹریفک سائنز پر ظاہر ہونے والی رفتار کی حد کی پابندی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام نے شہریوں کو موسم سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کرنے اور غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
شدید گرمی میں بارش کیوں؟
موسمی ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی کے دوران بارش کی ایک وجہ موجودہ ماحولیاتی صورتحال اور ایل نینو کے اثرات ہوسکتے ہیں۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو عموماً ہر دو سے سات سال کے دوران سامنے آتا ہے اور عالمی سطح پر ہواؤں، نمی اور بارش کے نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ایل نینو فضا میں نمی کی مقدار بڑھا سکتا ہے جس کے نتیجے میں گرجدار بادل بننے اور بارش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تاہم زیادہ نمی کے باوجود شدید گرمی برقرار رہ سکتی ہے اور درجہ حرارت میں فوری کمی ضروری نہیں۔
قومی مرکز برائے موسمیات نے شہریوں کو گرجدار بادلوں اور شدید بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کے مطابق شہری سیلابی پانی جمع ہونے والے علاقوں، نشیبی مقامات اور وادیوں سے دور رہیں اور کسی بھی صورت میں پانی سے بھرے نالوں یا وادیوں کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔
بجلی کی گرج چمک کے دوران کھلے یا بلند مقامات پر جانے سے گریز کیا جائے جبکہ سمندر، ساحلی علاقوں اور پہاڑی مقامات سے بھی دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شہریوں کو یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ بچوں کو جمع شدہ پانی میں کھیلنے کی اجازت نہ دیں جبکہ تیز ہواؤں کے دوران اڑنے والی اشیا اور اچانک حد نگاہ کم ہونے سے بھی محتاط رہیں۔







