
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے 107 سالہ بزرگ شہری Abdullah Duha Askar Al Kaabi کینسر سے طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
رپورٹ کے مطابق عبداللہ العکعبی 1919 میں شارجہ کے علاقے الفلی میں پیدا ہوئے تھے۔ تقریباً چھ سال قبل انہیں کینسر کی تشخیص ہوئی، جبکہ زندگی کے آخری ایام انہوں نے Sheikh Shakhbout Medical City کے انتہائی نگہداشت وارڈ (ICU) میں لائف سپورٹ پر گزارے۔
مرحوم نے اپنی طویل زندگی میں متحدہ عرب امارات کی تاریخ کے اہم ترین ادوار دیکھے، جن میں 1971 میں ملک کا قیام اور اس کے بعد ترقی، خوشحالی اور جدیدیت کا سفر شامل ہے۔
"انہوں نے کبھی گاڑی نہیں چلائی”
مرحوم کے صاحبزادے محمد العکعبی کے مطابق ان کے والد نے کبھی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، تاہم وہ غیر معمولی ذہانت، دوراندیشی اور معاملہ فہمی کے باعث معاشرے میں بے حد عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ عبداللہ العکعبی لوگوں کے درمیان تنازعات حل کرانے، میاں بیوی میں صلح کرانے اور رشتے کرانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے۔
ان کے مطابق مرحوم صحرا میں کام کرتے تھے اور اپنا ذاتی کاروبار بھی چلاتے تھے۔ ان کی یادداشت انتہائی مضبوط تھی اور وہ 70 سے 80 سال پرانے واقعات بھی تفصیل سے یاد رکھتے تھے۔ وہ اپنے تمام 10 پوتے پوتیوں کے نام بھی زبانی یاد رکھتے تھے۔
محمد العکعبی نے بتایا کہ ان کے والد پوری زندگی صحت مند رہے، باقاعدگی سے پیدل چلتے تھے، متوازن غذا استعمال کرتے تھے اور انہوں نے کبھی گاڑی نہیں چلائی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مرحوم نماز کے انتہائی پابند تھے۔ بیماری کے آخری ایام میں بھی انہوں نے اپنے بیٹے سے اپنی طرف سے نماز ادا کرنے کی درخواست کی اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور استغفار کرتے رہتے تھے۔
کینسر کی تشخیص کے بعد عبداللہ العکعبی نے کہا تھا کہ ان کے تمام ہم عصر دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ انہیں اتنی طویل زندگی عطا ہوئی اور اپنے پوتے پوتیوں کو بڑا ہوتے دیکھنے کا موقع ملا۔







