
خلیج اردو
دبئی کی جیمز ماڈرن اکیڈمی کے سینئر کرکٹ کوچ شفیق احمد کے بیٹے اور پاکستانی اوپننگ بیٹر عبداللہ شفیق نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ناقابلِ شکست 160 رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کو 8 وکٹوں سے یادگار فتح دلا دی۔
تقریباً 10 ماہ تک قومی ٹیسٹ ٹیم سے باہر رہنے والے 26 سالہ عبداللہ شفیق کو اس وقت دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا جب پہلے ٹیسٹ کے دوران کپتان شان مسعود انگلی کی انجری کا شکار ہو گئے۔
عبداللہ شفیق اس وقت ویسٹ انڈیز میں گلوبل سپر لیگ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کھیل رہے تھے، جہاں سے انہیں فوری طور پر پاکستانی اسکواڈ میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا گیا۔ انہوں نے پورٹ آف اسپین پہنچ کر تیسرے نمبر پر بیٹنگ کی، حالانکہ وہ بنیادی طور پر اوپننگ بیٹر ہیں۔
پاکستان کی ابتدائی وکٹ جلد گرنے کے بعد عبداللہ شفیق نے ابتدا میں مشکلات کا سامنا کیا، تاہم بعد ازاں کپتان بابر اعظم کے ساتھ اہم شراکت قائم کرتے ہوئے ناقابلِ شکست 160 رنز اسکور کیے اور ٹیم کی تاریخی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ ویسٹ انڈیز میں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھی بڑی سنچری بھی ہے، جبکہ عبداللہ شفیق نے اپنے کیریئر میں بیرونِ ملک یہ تیسری بڑی سنچری اسکور کی، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی ان تینوں سنچریوں میں پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی اور انہیں ہر بار پلیئر آف دی میچ کا اعزاز بھی ملا۔
عبداللہ شفیق کے والد اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹر شفیق احمد نے، جو ماضی میں لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم کے ساتھ بھی کرکٹ کھیل چکے ہیں، کہا کہ ان کے بیٹے کی واپسی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس خاندان کے لیے انتہائی مشکل رہے کیونکہ عبداللہ مسلسل خراب فارم کا شکار رہے اور ٹیم سے بھی باہر ہو گئے تھے، لیکن انہوں نے محنت جاری رکھی اور میڈیا کی تنقید پر توجہ دینے کے بجائے اپنی کارکردگی سے جواب دینے کا فیصلہ کیا۔
شفیق احمد نے بتایا کہ انہوں نے عبداللہ کو ہمیشہ یہی نصیحت کی کہ سخت محنت جاری رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ محنت کرنے والوں کو مناسب وقت پر ضرور کامیابی دیتا ہے۔
واضح رہے کہ عبداللہ شفیق نے 2021 سے 2023 کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں 1,600 سے زائد رنز بنائے تھے، جن میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف سنچریاں اور سری لنکا کے خلاف ایک ڈبل سنچری بھی شامل تھی، تاہم 2024 کے آغاز کے بعد وہ صرف 280 رنز بنا سکے تھے، جس کے باعث انہیں قومی ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔







