
خلیج اردو
عمان کے ظفار گورنریٹ میں الحلانیات جزائر کے قریب ایک خام تیل بردار جہاز سمندر کی تہہ سے ٹکرا کر پھنس گیا ہے جس کے بعد حکام نے سمندری ماحول اور بحری آمدورفت کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔
عمان کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی ادارے کے مطابق Caroline Bezengi نامی آئل ٹینکر جزائر کے قریب سمندر میں تہہ سے ٹکرانے کے بعد پھنس گیا۔
عمانی حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی تکنیکی ٹیمیں صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہی ہیں اور منظور شدہ ہنگامی منصوبوں کے تحت ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔
حکام کے مطابق اس وقت بنیادی مقصد سمندری ماحول اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر پڑنے والے کسی بھی ممکنہ اثرات کو کم کرنا ہے۔
صورتحال کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فیلڈ سروے اور تکنیکی ماڈلز استعمال کیے جارہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ماحولیاتی نقصان کا بروقت اندازہ لگایا جاسکے۔
حکام نے کہا ہے کہ صورتحال سے متعلق تمام نئی معلومات صرف سرکاری ذرائع سے جاری کی جائیں گی اور عوام سے غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
274 میٹر سے زیادہ طویل آئل ٹینکر
MarineTraffic کے مطابق Caroline Bezengi خام تیل لے جانے والا ٹینکر ہے جو کیمرون کے پرچم تلے سفر کررہا ہے۔
جہاز کی لمبائی تقریباً 274.48 میٹر جبکہ چوڑائی 48 میٹر بتائی گئی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ الحلانیات جزائر کے قریب کسی بحری جہاز کے پھنسنے کا واقعہ پیش آیا ہو۔ 2 جولائی کو بھی شلیم اور الحلانیات جزائر کے قریب ایک بحری جہاز سمندری بفر زون میں پھنس گیا تھا۔
اس وقت مقامی رہائشیوں اور سیاحوں کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ علاقے میں تیل کے اخراج کے شواہد نہیں ملے۔ ساحلی علاقوں سے پانی کے نمونے بھی مزید جانچ کے لیے حاصل کیے گئے تھے۔
الحلانیات جزائر کیوں اہم ہیں؟
الحلانیات جزائر عمان کے جنوب مشرقی ساحل سے تقریباً 40 کلومیٹر دور بحیرہ عرب میں واقع پانچ دور دراز جزائر پر مشتمل ہیں۔
ان میں الحلانیہ سب سے بڑا اور واحد آباد جزیرہ ہے جسے اپنی قدرتی خوبصورتی سمندری حیات اور محفوظ ماحولیاتی حیثیت کے باعث اہم سیاحتی مقام سمجھا جاتا ہے۔
یہ علاقہ مرجانی چٹانوں مچھلیوں سمندری کچھوؤں ڈولفن اور وہیل سمیت مختلف سمندری حیات کے لیے اہم مسکن ہے۔
جزائر پر کئی اقسام کے سمندری پرندے بھی افزائش نسل کرتے ہیں۔ ان میں Masked Booby بھی شامل ہے جس کے عمان اور بحیرہ عرب میں واحد معلوم گھونسلہ بنانے کے مقامات یہی جزائر ہیں۔
جزائر کو قدرتی حیات کے تحفظ کے لیے مستقبل میں قدرتی ذخیرے کے طور پر نامزد کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور رہی ہیں تاکہ کچھوؤں کے انڈے دینے والے ساحلوں مرجانی چٹانوں پرندوں اور مچھلیوں کے وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔







