متحدہ عرب امارات

آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کی آئل کمپنی ادنوک کے جہاز پر میزائل حملہ، یو اے ای نے ایران کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کر دی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی آئل کمپنی ادنوک نے اعلان کیا ہے کہ اس کے ایک جہاز کو آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے ہفتہ 8 اگست کی صبح میزائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ادنوک کے ٹینکر پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز کو معاشی دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے بحری قزاقی کے مترادف ہے۔

ادنوک کے مطابق خطے میں جاری تنازع کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 16 بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور عملے کے 20 افراد زخمی ہوئے۔

کمپنی نے بتایا کہ 14 جولائی کو دو آئل ٹینکرز ال بہیہ اور ممباسا بی کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں ایک ملاح ہلاک ہوا۔

ادنوک کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ افراد، اثاثوں اور آپریشنز کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یو اے ای وزارت خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حملے فوری طور پر بند کرے اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کے عزم کا اظہار کرے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button