
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے ماہرین نفسیات اور ڈاکٹروں نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر کرنا مستقبل میں ان کے لیے ذہنی دباؤ، شرمندگی اور استحصال کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق والدین جس تصویر یا ویڈیو کو آج معصوم اور یادگار سمجھ کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں ممکن ہے بچہ بڑا ہونے کے بعد اسی مواد کو اپنی پرائیویسی اور شناخت کے خلاف محسوس کرے۔
ابوظبی کی ایک عدالت کے حالیہ فیصلے میں طلاق یافتہ والدین کو اپنی بیٹیوں کی تصاویر، ویڈیوز اور ذاتی معلومات آن لائن شائع کرنے سے روک دیا گیا جبکہ ایسا موجودہ مواد بھی ہٹانے کا حکم دیا گیا جو بچوں کے بہترین مفاد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ صرف والدین کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں بلکہ بچوں کے پرائیویسی کے حق اور تحفظ کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر ہنادی الجابر نے ایک ایسے بچے کا واقعہ بیان کیا جس کے والدین نے بچپن میں اس کی ویڈیوز بنا کر یوٹیوب پر اپ لوڈ کی تھیں۔ اس وقت بچہ اتنا کم عمر تھا کہ وہ آن لائن مواد شیئر کرنے کے نتائج کو سمجھنے یا اپنی رضامندی دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔
جب وہ بچہ بڑا ہو کر نوجوان ہوا تو اس کے اسکول کے ساتھیوں نے پرانی ویڈیوز تلاش کرلیں اور اس کے بولنے، ہنسنے اور دیگر حرکات کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ حتیٰ کہ اس کی تصاویر سے ڈیجیٹل اسٹیکرز بنا کر بھی اسے تنگ کیا گیا۔
مسلسل مذاق اور ذہنی دباؤ کے باعث نوجوان نے اسکول جانے سے بھی انکار کرنا شروع کردیا۔ بعد میں اس نے اپنے خاندان سے ویڈیوز ہٹانے کی درخواست کی لیکن آن لائن موجود مواد کو مکمل طور پر ہٹانا آسان نہیں تھا اور خاندان کو قانونی مدد حاصل کرنا پڑی۔
ڈاکٹر ہنادی الجابر کے مطابق نوجوان شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوا اور ایک موقع پر خودکشی کے خیالات تک آنے لگے۔
برجیل میڈیکل سٹی کے ڈائریکٹر پیڈیاٹرک سائیکاٹری سروسز ڈاکٹر امیر جاوید نے کہا کہ بچوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ انہیں اپنی آن لائن شناخت اور نمائندگی پر زیادہ اختیار ملنا چاہیے۔
ان کے مطابق اگر بچوں کی زندگی کے بڑے حصے کو ان کی رضامندی کے بغیر آن لائن دستاویزی شکل دے دی جائے تو بڑے ہونے پر انہیں شرمندگی، اعتماد کی کمی اور یہ احساس ہوسکتا ہے کہ ان کی ذاتی حدود کا احترام نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو تصویر والدین کو پانچ سال کی عمر میں معصوم اور مزاحیہ لگتی ہے وہی تصویر 15 سال کی عمر میں بچے کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین نے والدین کو یہ اصول اپنانے کا مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ خود اپنی ایسی تصویر یا ذاتی معلومات عوام کے سامنے شیئر کرنا پسند نہیں کریں گے تو بچوں کے بارے میں بھی وہی معیار اپنایا جائے۔
ڈاکٹر ہنادی الجابر نے خبردار کیا کہ خطرہ صرف اسکول میں مذاق اڑانے تک محدود نہیں۔ عوامی طور پر شیئر کی گئی بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز اجنبی افراد محفوظ کر سکتے ہیں، دوبارہ شیئر کر سکتے ہیں یا بچوں سے رابطے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق والدین کو اس وقت خاص طور پر محتاط ہونا چاہیے جب بچہ پرانی تصویر یا ویڈیو دیکھ کر اسے ہٹانے کا مطالبہ کرے۔ اگر بچہ کہے کہ اسے تصویر پسند نہیں یا اسے ڈیلیٹ کرنے کی درخواست کرے تو والدین کو اس کی خواہش کا احترام کرنا چاہیے۔
ماہر نفسیات حبا بدوی نے کہا کہ خاندانی یادوں کے لیے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز محفوظ کرنا مثبت عمل ہوسکتا ہے لیکن جب یہی مواد مستقل طور پر آن لائن ڈال کر ویوز، فالوورز یا آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے اور بچہ اس منصوبے کا حصہ بن جائے تو صورتحال تشویشناک ہوجاتی ہے۔
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بچوں کے خوبصورت لمحات ضرور محفوظ کریں لیکن ہر تصویر یا ویڈیو کو عوامی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے کے بجائے حساس اور نجی مواد کو صرف خاندان تک محدود رکھیں۔







