
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی منفرد ’’روبوٹ شادی‘‘ محض تفریح یا تشہیری اسٹنٹ نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کو اماراتی معاشرے کے قریب لانا تھا۔
شارجہ میں ہونے والی اس غیر معمولی تقریب میں ’’بو سنیدہ‘‘ نامی روبوٹ دولہا جبکہ ’’موزہ‘‘ نامی روبوٹ دلہن بنی۔ دونوں کو اماراتی ثقافت اور مقامی شناخت سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔
اس تقریب کے پیچھے اماراتی کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کے حامی یوسف لوتاہ تھے۔ ان کے مطابق شادی کا بنیادی مقصد لوگوں کو مسکرانے کے ساتھ ساتھ روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں سوچنے اور سوال کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔
یوسف لوتاہ کا کہنا تھا کہ روبوٹ اب کوئی دور یا پیچیدہ چیز نہیں رہے بلکہ مستقبل میں ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک دلچسپ اور تفریحی سرگرمی لوگوں میں ٹیکنالوجی کے بارے میں سیکھنے کا پہلا قدم بن سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریب کو حقیقی شادی کی طرح ترتیب دیا گیا اور اس میں اماراتی روایات، ثقافتی عناصر اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی قومی شناخت یا ثقافت کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے جدید اور اختراعی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
روبوٹ دولہا اور دلہن کے نام کیوں رکھے گئے؟
دولہے کا نام ’’بو سنیدہ‘‘ جبکہ دلہن کا نام ’’موزہ‘‘ رکھا گیا، کیونکہ دونوں نام اماراتی معاشرے اور مقامی شناخت سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔
لوتاہ کے مطابق مقصد یہ تھا کہ بچے اور خاندان ان روبوٹس کو اجنبی نہ سمجھیں بلکہ انہیں ایسے کرداروں کے طور پر دیکھیں جو ان کی زبان بولتے، ثقافت کا احترام کرتے اور قومی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔
بو سنیدہ کو ایک ملنسار اور جدت پسند اماراتی کردار کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جبکہ موزہ ایک ذہین خاتون روبوٹ کے کردار کی نمائندگی کرتی ہے جو تعلیم، تخلیقی صلاحیت اور عوامی خدمت کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
لوتاہ کا ارادہ ہے کہ مستقبل میں ان دونوں کے ساتھ مزید مقامی کرداروں پر مبنی روبوٹس بھی متعارف کرائے جائیں اور اماراتی روبوٹس کی ایک مکمل فیملی تشکیل دی جائے۔
بچوں کی شرکت سب سے اہم قرار
لوتاہ کے مطابق تقریب میں شریک افراد کی تعداد سے زیادہ اہم یہ تھا کہ لوگوں نے کس طرح ردعمل دیا۔ بچے، نوجوان اور خاندان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں سوالات کرتے، تصاویر بناتے اور دلچسپی کا اظہار کرتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس تقریب سے کسی ایک بچے کو مستقبل میں روبوٹکس انجینئر بننے کا خواب دیکھنے کی ترغیب ملی تو یہ کوشش کامیاب ہوگئی۔
تقریب میں مہمانوں کے لیے کھانے کا بھی انتظام کیا گیا، تاہم روبوٹ دولہا اور دلہن کھانے میں شریک نہیں ہوسکے۔ لوتاہ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ بو سنیدہ اور موزہ کھانا تو نہیں کھا سکتے، لیکن تقریب میں موجود خوشی اور مسکراہٹیں ہی ان کے لیے بہترین تحفہ تھیں۔
سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے
روبوٹ شادی کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے۔ ایک صارف نے کہا کہ آج روبوٹس کی شادی ہو رہی ہے، کل یہ ہمارے ساتھ دفاتر میں کام کر رہے ہوں گے۔
لوتاہ نے اس تبصرے پر مسکراتے ہوئے کہا کہ شاید یہ مستقبل زیادہ دور نہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ روبوٹس انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے ان کے ساتھ کام کریں گے، ان کی مدد کریں گے اور تخلیقی صلاحیتوں اور پیداواری عمل کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے۔
روبوٹ جوڑے کا ہنی مون بھی متحدہ عرب امارات میں ہوگا
اگر بو سنیدہ اور موزہ کو ہنی مون پر بھیجا گیا تو لوتاہ کے مطابق ان کی منزل متحدہ عرب امارات ہی ہوگی۔
ان کے مطابق روبوٹ جوڑا میوزیم آف دی فیوچر سمیت متحدہ عرب امارات کے مختلف معروف مقامات کا دورہ کرسکتا ہے، تاہم ان کے لیے اصل ’’سفر‘‘ تفریح کے بجائے تعلیمی مقصد کا حامل ہونا چاہیے۔
لوتاہ کا اصل خواب یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کا عالمی مرکز بنے۔
امارات کو روبوٹکس کا عالمی مرکز بنانے کا عزم
یوسف لوتاہ مستقبل میں متحدہ عرب امارات میں بین الاقوامی روبوٹکس مقابلوں، خصوصی روبوٹکس مراکز اور اسکولوں و جامعات میں جدید تعلیمی پروگراموں کا قیام چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر اماراتی طالب علم روبوٹ ڈیزائن، پروگرام اور تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ صرف مصنوعی ذہانت استعمال کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ اسے تیار کرنا، اس میں جدت لانا اور اسے ملک اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرنا سیکھیں۔
لوتاہ کے مطابق متحدہ عرب امارات مستقبل کی تشکیل میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے انقلاب کی قیادت کرنے والا دنیا کا بہترین مرکز بنے۔







