
خلیج اردو
دبئی میں نئے مربوط پالتو جانوروں کے شیلٹر اور ڈیجیٹل ایڈاپشن پلیٹ فارم کے قیام کو جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ جانوروں کے ریسکیو سے وابستہ افراد اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آوارہ اور لاوارث جانوروں کو ریسکیو کرنے، علاج، بحالی اور نئے گھر کی فراہمی کے عمل کو آسان بنا سکتا ہے۔
گزشتہ ماہ دبئی میں قائم کیے گئے نئے شیلٹر میں رہائشیوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے گود لینے کے لیے دستیاب بلیوں اور کتوں کو پہلے آن لائن دیکھنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ وارسان کے برڈز اینڈ پیٹس مارکیٹ میں قائم شیلٹر میں آوارہ اور گمشدہ پالتو جانوروں کے لیے ویٹرنری علاج، بحالی، گرومنگ اور گود لینے کی سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کی جائیں گی۔
جانوروں کے ریسکیو سے وابستہ افراد کے مطابق اس اقدام سے انفرادی رضاکاروں پر موجود دباؤ کم ہوگا اور لوگوں میں ذمہ دارانہ پالتو جانور پالنے کا شعور بھی بڑھے گا۔
جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی رفاہ اَرْجَح نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسا پلیٹ فارم ریسکیو کیے گئے جانوروں کو مناسب خاندانوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق لوگوں کو جانور خریدنے کے بجائے انہیں گود لینے کی ترغیب ملے گی اور سڑکوں پر موجود آوارہ جانوروں کی تعداد کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ریسکیو کرنے والوں کو مالی مشکلات کا سامنا
ریسکیو ورکرز کے مطابق جانوروں کے لیے مستقل گھر تلاش کرنا سب سے بڑے مسائل میں شامل ہے، جبکہ علاج معالجے کے اخراجات بھی رضاکاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔
رفاہ اَرْجَح کے پاس 6 ریسکیو کی گئی بلیاں ہیں، جنہیں انہوں نے مختلف مشکل حالات میں پایا تھا۔ ان میں سے ایک کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی، دوسری آنکھوں کی شدید سوزش کا شکار تھی جبکہ ایک بلی جلدی بیماری یا پیراسائٹ انفیکشن میں مبتلا دکھائی دیتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ آزادانہ طور پر جانوروں کو ریسکیو کرنے والے افراد کے لیے سستے ویٹرنری علاج، عارضی رہائش، فوسٹر نیٹ ورک اور جانوروں کی منتقلی کے لیے سہولیات ضروری ہیں۔
ماہرین کے مطابق کتوں کو گود لینے کے لیے خاندان تلاش کرنا نسبتاً زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ بعض عمارتوں اور رہائشی مقامات میں کتوں کو رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی، جبکہ کتوں کے لیے زیادہ جگہ اور مستقل دیکھ بھال بھی درکار ہوتی ہے۔
شیلٹر، ریسکیورز اور ویٹرنری ماہرین میں تعاون پر زور
جانوروں کی فلاح سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ نئے شیلٹر کو آزاد ریسکیورز، ویٹرنری کلینکس اور فوسٹر رضاکاروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
اس نظام کے تحت ریسکیو ورکرز مشکل میں موجود جانوروں کی نشاندہی کریں، ویٹرنری ماہرین ان کا علاج کریں، فوسٹر رضاکار عارضی طور پر دیکھ بھال کریں جبکہ شیلٹر ان جانوروں کو مستقل گھر فراہم کرنے کے عمل کو مربوط کرے۔
پالتو جانوروں کی صنعت سے وابستہ اینڈریا پیٹرووچ نے بھی اس اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں بلکہ ایک آغاز ہے۔
ان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں آوارہ اور لاوارث بلیوں اور کتوں کی تعداد کم کرنے کے لیے عوامی آگاہی، جانوروں کو لاوارث چھوڑنے کے خلاف سخت اقدامات اور ریسکیو ورکرز و شیلٹرز کی مسلسل معاونت ضروری ہوگی۔
ماہرین نے متحدہ عرب امارات کے شدید گرم موسم کے پیش نظر آوارہ جانوروں کے لیے خوراک اور صاف پانی کی فراہمی کے انتظامات پر بھی زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر موجود جانوروں نے خود لاوارث ہونے کا انتخاب نہیں کیا، اس لیے ان کی دیکھ بھال معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔







