
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کی ڈائریکٹر آف اسٹریٹجک کمیونیکیشنز عفرا الہمیلی کے بیٹے ماجد کے لیے موسمِ گرما کی سب سے یادگار یاد کسی غیر ملکی سفر یا نئے شہر کی سیر نہیں بلکہ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم سے اچانک ملاقات بن گئی۔
عفرا الہمیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ واقعہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے بیٹے سے موسمِ گرما کی پسندیدہ یاد کے بارے میں پوچھا تو اس نے شیخ محمد بن راشد المکتوم سے اچانک ملاقات کو اپنی سب سے یادگار یاد قرار دیا۔
عفرا الہمیلی کے مطابق ان کے بیٹے نے شیخ محمد کو شہر میں عام لوگوں کے درمیان گھومتے، لوگوں سے گرمجوشی سے ملتے اور انتہائی عاجزی کے ساتھ سلام کرتے دیکھا، جس نے اس پر گہرا اثر چھوڑا۔
انہوں نے کہا کہ یہی متحدہ عرب امارات کی قیادت کا انداز ہے، جہاں حکمران عوام کے قریب رہتے ہیں اور نئی نسل کے لیے تحریک کا باعث بنتے ہیں۔
عفرا الہمیلی نے ملاقات کی درست جگہ ظاہر نہیں کی، تاہم دستیاب تصاویر اور ماحول سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات متحدہ عرب امارات سے باہر ہوئی۔ شیخ محمد کو اس سے قبل یکم اگست کو لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں بھی دیکھا گیا تھا، جہاں وہ موسمِ گرما کی چھٹیوں کے دوران موجود تھے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب عفرا الہمیلی نے شیخ محمد بن راشد المکتوم کا خاندانی وقت کی اہمیت سے متعلق ایک پیغام بھی شیئر کیا۔ شیخ محمد کے مطابق تعطیلات کی اصل قدر اس بات میں نہیں کہ کتنے شہروں کا سفر کیا گیا بلکہ اس میں ہے کہ خاندان کے ساتھ کتنے یادگار لمحات گزارے گئے۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم کو دبئی میں عوام کے درمیان اچانک نظر آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ انہیں شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس، جم اور دیگر عوامی مقامات پر شہریوں سے ملاقات کرتے اور تصاویر بنواتے بھی دیکھا جاتا رہا ہے۔
رواں سال اپریل میں بھی دبئی کے ایک جم میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی تھی جب شیخ محمد اچانک وہاں پہنچ گئے۔ ورزش میں مصروف افراد نے دبئی کے حکمران کو اپنے درمیان دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔
تاہم ماجد کے لیے شیخ محمد سے یہ اچانک ملاقات موسمِ گرما کی ایک ایسی یاد بن گئی جو شاید طویل عرصے تک اس کے ذہن میں تازہ رہے گی۔







