
خلیج اردو
مصر میں ایک ہولناک قتل کی واردات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جہاں ایک شخص نے مالی مشکلات دور کرنے کے لیے اپنے دوست اور اس کے پورے خاندان کو مبینہ طور پر قتل کردیا۔
قاہرہ کے علاقے نیو قاہرہ کی ففتھ سیٹلمنٹ میں 10 اگست 2026 کو ایک شخص نے پولیس کو اطلاع دی کہ اس کا بھائی جو پرنٹنگ پریس کا مالک تھا لاپتا ہے اور اس سے رابطے کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔
پولیس نے متاثرہ شخص کے گھر کا دورہ کیا تو اس کی گاڑی پر خون کے نشانات اور گولی چلنے کے آثار ملے۔ مزید تلاشی کے دوران مقتول کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کی لاشیں گھر کے قریب ان کی گاڑی سے برآمد ہوئیں۔
پولیس نے تحقیقات اور فرانزک معائنے کے بعد مبینہ ملزم کی شناخت کرلی اور اسے گرفتار کرلیا۔ ملزم مقتول کا ریٹائرڈ دوست نکلا جو جیزہ گورنریٹ کے علاقے دُقّی میں رہائش پذیر تھا۔
تفتیش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اسے معلوم تھا کہ اس کا دوست گھر میں نقد رقم اور سونے کی اینٹیں رکھتا ہے۔ مالی مشکلات کے باعث اس نے رقم اور سونا لوٹنے کے لیے دوست کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
قتل کی واردات کیسے ہوئی؟
ملزم کے مطابق اس نے اپنے دوست کو گاڑی میں سیر کے لیے ساتھ چلنے کو کہا اور دورانِ سفر اسے گاڑی کے اندر گولی مار دی۔
اس کے بعد اس نے مقتول کے گھر کی چابیاں لے لیں اور لاش کو قاہرہ کے مضافات میں عین سخنہ روڈ پر ایک کنکریٹ رکاوٹ کے پیچھے پھینک دیا۔
اس کے بعد ملزم مقتول کے گھر پہنچا اور اس کی اہلیہ کو فون کرکے بتایا کہ اس کا شوہر ٹریفک حادثے کا شکار ہوگیا ہے اور اسے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
مقتول کی اہلیہ اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ ملزم کی گاڑی میں اسپتال جانے کے لیے روانہ ہوگئی۔ ملزم نے راستے میں تینوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
واردات کے بعد ملزم نے بتایا کہ وہ دوبارہ خاندان کے گھر پہنچا اور مقتول کی اہلیہ اور دونوں بیٹیوں کی لاشوں والی گاڑی کو گھر کے قریب کھڑا کرکے ڈھانپ دیا۔
ملزم گھر میں داخل ہوکر رقم اور سونا لوٹنا چاہتا تھا تاہم عمارت کے سکیورٹی گارڈ کی موجودگی کے باعث وہ اندر داخل نہ ہوسکا۔ اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے رات کے وقت واپس آکر ڈکیتی مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
مصر کی وزارت داخلہ کے مطابق مقدمے میں قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے جبکہ پبلک پراسیکیوشن مزید تحقیقات کررہی ہے۔ پولیس نے ملزم کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والا ہتھیار بھی برآمد کرلیا ہے۔
مقتول بچیوں کے اسکول کا خراج عقیدت
مقتول خاندان کی دو بیٹیوں ہیلن اسامہ اور لیلیان اسامہ کے اسکول برٹش رمسیس اسکول نے بھی سوشل میڈیا پر دونوں طالبات کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
اسکول نے اپنے بیان میں کہا کہ ہیلن اور لیلیان اسکول کمیونٹی کی عزیز رکن تھیں اور انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اسکول انتظامیہ نے دونوں طالبات کے اہل خانہ، دوستوں اور عزیزوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بچیوں کی کمیونٹی میں کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔







