
خلیج اردو
شام کی ایک عدالت نے منگل کے روز سابق صدر بشار الاسد کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی۔
یہ فیصلہ عبوری حکام کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سابق حکومت کے اہم عہدیداروں کے خلاف مقدمات میں پہلا بڑا فیصلہ قرار دیا جارہا ہے۔ عبوری حکام نے رواں سال سابق حکومت سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع کی تھی، جن میں بعض ملزمان عدالت میں موجود جبکہ دیگر غیر حاضر ہیں۔
شامی سرکاری خبر رساں ادارے ثناء کے مطابق مقدمے کی سربراہی کرنے والے جج فخر الدین العریان نے بشار الاسد کو ایک سے زائد افراد اور بچوں کے خلاف دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت قتل، تشدد، من مانے طور پر حراست میں رکھنے اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا۔
عدالت نے ان جرائم پر بشار الاسد کو سزائے موت سنائی۔
بشار الاسد دسمبر 2024 میں اس وقت اپنے خاندان کے ہمراہ ماسکو فرار ہوگئے تھے جب اسلام پسند قیادت میں فورسز دمشق کی جانب پیش قدمی کررہی تھیں۔
اسی مقدمے میں اسد دور کے سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے۔
عاطف نجیب بشار الاسد کے کزن ہیں اور انہیں گزشتہ سال جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے انہیں قتل، 15 سال سے کم عمر بچوں کے دانستہ قتل اور ایسے تشدد کے جرائم میں مجرم قرار دیا جس کے نتیجے میں متاثرین کی موت واقع ہوئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ عاطف نجیب کے جرائم انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں سخت ترین سزا یعنی سزائے موت سنائی۔
مقدمے کے دستاویزات میں بشار الاسد کے چھوٹے بھائی ماہر الاسد سمیت سابق حکومت سے وابستہ دیگر مفرور افراد کے نام بھی شامل ہیں۔
ان میں فہد جاسم الفریج، محمد ایمن عیوش، لؤی علی العلی، قصیٰ ابراہیم محیوب، وفیق صالح ناصر اور طلال فارس العاصمی شامل ہیں۔
عدالت کے مطابق ان تمام افراد کو دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت قتل اور ایسے تشدد کے جرائم میں مجرم قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور انہیں بھی سزائے موت سنائی گئی۔







