متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں والدین نے بچوں کے نئے تعلیمی سال کے اخراجات کم کرنے کے طریقے ڈھونڈ لیے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں نئے تعلیمی سال 2026-27 کی تیاری کے دوران والدین اسکول کے بڑھتے اخراجات کم کرنے کے لیے بجٹ سازی، قیمتوں کا موازنہ، پرانی اشیا کا دوبارہ استعمال اور ڈسکاؤنٹس سے فائدہ اٹھانے جیسے طریقے اپنا رہے ہیں۔

دبئی میں دو بچوں کی والدہ ام ہاشر نے بتایا کہ وہ خریداری سے پہلے گھر میں موجود اسکول کا سامان چیک کرتی ہیں اور صرف وہی چیزیں خریدتی ہیں جنہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہو۔

وہ ضروری اور اضافی اشیا کو الگ کرتی ہیں اور ہر بچے کے لیے الگ بجٹ مقرر کرتی ہیں تاکہ غیر ضروری یا پہلے سے موجود چیزیں دوبارہ خریدنے سے بچا جاسکے۔ زیادہ استعمال ہونے والی اشیا بہتر قیمت پر بڑی مقدار میں خریدنے کو بھی ترجیح دیتی ہیں۔

راس الخیمہ میں دو بیٹیوں کی والدہ مریم حاجی محمد نے جولائی ہی میں نئے تعلیمی سال کی تیاری شروع کردی۔ یونیفارم تیار کروانے سے پہلے انہوں نے اسکول سے تصدیق کی کہ یونیفارم اور لوگو میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

انہوں نے تیار شدہ بڑے سائز کے یونیفارم خریدنے کے بجائے بیٹیوں کے ناپ کے مطابق یونیفارم سلوا لیے، جس سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوئی۔

مریم نے گزشتہ سال کے استعمال شدہ یونیفارمز مقامی فلاحی ادارے کو بھی عطیہ کیے تاکہ ضرورت مند طلبہ انہیں دوبارہ استعمال کرسکیں۔

اسٹیشنری، اسکول بیگز، لیبلز اور دیگر سامان کے لیے انہوں نے آن لائن خریداری کو ترجیح دی، جہاں بیٹیاں اپنی پسند کی چیزیں منتخب کرسکتی ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر قیمتوں کا موازنہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

والدین کا کہنا ہے کہ ہر بڑی ڈسکاؤنٹ کو فائدہ مند سمجھنا ضروری نہیں۔ خریداری سے پہلے اصل قیمت، دیگر دکانوں میں موجود قیمت، چیز کا معیار اور اس کی حقیقی ضرورت کو دیکھنا چاہیے۔

ام ہاشر کے مطابق اگر کوئی چیز پہلے سے گھر میں موجود ہو یا واقعی ضرورت نہ ہو تو صرف زیادہ ڈسکاؤنٹ دیکھ کر اسے خریدنا دراصل پیسے کی بچت نہیں۔

والدین پرانے اسکول بیگز، پینسل کیسز، لنچ باکس، رنگ، پین، فولڈرز، اسکیل اور دیگر سامان کو دوبارہ استعمال کرکے بھی اخراجات کم کررہے ہیں۔

مریم نے گھر میں جزوی طور پر استعمال شدہ نوٹ بکس، رنگین پنسلیں، اسٹیشنری اور کرافٹ کا سامان الگ جگہ پر محفوظ کر رکھا ہے تاکہ بچے انہیں ڈرائنگ اور دیگر سرگرمیوں میں استعمال کرسکیں۔

جو سامان اچھی حالت میں ہو لیکن مزید ضرورت نہ ہو اسے ضائع کرنے کے بجائے رشتہ داروں، دوستوں یا ضرورت مند خاندانوں کو دے دیا جاتا ہے۔

والدین کے مطابق اسکول کی خریداری میں مقصد اخراجات مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ ہر خریداری کو ضرورت، معیار اور قیمت کے اعتبار سے بہتر بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button