
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں 24 اگست کو ستارۂ سہیل کے طلوع کے بعد موسم میں بتدریج تبدیلی متوقع ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ موسم فوری طور پر ٹھنڈا ہو جائے گا۔
اماراتی فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان کے مطابق ستارۂ سہیل کے طلوع کے بعد موسم میں اعتدال آنا شروع ہو جائے گا، لیکن درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ نمی میں اضافے کے باعث گرمی کی شدت اب بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ موسم میں تبدیلی ضرور محسوس کریں گے، لیکن اسے سرد موسم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
متحدہ عرب امارات میں روایتی طور پر گرمی کے شدید ترین دور کو "ایام القیظ” کہا جاتا ہے، جو جولائی کے آغاز سے تقریباً 10 اگست تک جاری رہتا ہے۔
اس دوران 5 اگست کو ملک میں درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا، جبکہ رات کے وقت بھی درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں کمی کے باوجود نمی میں اضافے کی وجہ سے موسم زیادہ حبس والا محسوس ہو سکتا ہے۔ ستمبر اور اکتوبر کو عام طور پر متحدہ عرب امارات کے سب سے زیادہ مرطوب مہینے تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگست کے اختتام سے صبح کے وقت دھند اور شبنم کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے، جو ستمبر میں مزید نمایاں ہو جائے گا۔
ابراہیم الجروان کے مطابق گرمی کی شدت میں عارضی اضافے کے کچھ مختصر ادوار بھی آ سکتے ہیں، تاہم یہ مجموعی موسمی تبدیلی پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 23 ستمبر کے بعد شام کے اوقات زیادہ خوشگوار ہونا شروع ہو جائیں گے، جبکہ دن کے درجہ حرارت میں واضح کمی نومبر کے دوران محسوس کی جائے گی اور دسمبر کے وسط تک موسم مزید معتدل ہو جائے گا۔
فلکیاتی ماہرین نے واضح کیا کہ ستارۂ سہیل، جسے بین الاقوامی سطح پر کینوپس کہا جاتا ہے، موسم میں تبدیلی کا سبب نہیں بنتا بلکہ عرب روایات میں اسے موسم کی تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔







