متحدہ عرب امارات

ایران میں غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دینا مزید سخت قوانین کی زد میں آنے کا امکان

خلیج اردو
ایرانی پارلیمنٹ نے ایک ایسے بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اسلامی جمہوریہ کے لیے "مخالف” سمجھے جانے والے میڈیا اداروں کو انٹرویو دینا یا ان سے رابطہ کرنا قابلِ سزا جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس بل میں امریکی اور اسرائیلی میڈیا کے علاوہ ان اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ان دونوں ممالک کی مالی معاونت سے چلتے ہیں۔

بل کے مطابق ایسے میڈیا اداروں کو انٹرویو دینے یا ان کے پروگراموں میں شرکت کرنے والوں کو 6 ماہ سے 2 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔

دیگر غیر ملکی میڈیا سے رابطے کے لیے بھی انٹیلی جنس وزارت کو پیشگی اطلاع دینا لازمی ہوگا۔

مجوزہ قانون کے تحت غیر ملکی سفارت خانوں، بین الاقوامی اداروں یا غیر ملکی تنظیموں سے وزارتِ خارجہ کی تحریری اجازت کے بغیر رابطے پر جرمانہ اور بعض سماجی حقوق سے محرومی کی سزا دی جا سکے گی۔

اس بل میں غیر ملکی اداروں کی ہدایات کے تحت کیے جانے والے معاشی جرائم کی سزائیں بھی مزید سخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بعض معاملات میں 30 سال تک قید کی سزا بھی دی جا سکے گی۔

واضح رہے کہ اس بل کو قانون بننے کے لیے اب بھی ایران کی گارڈین کونسل کی منظوری درکار ہے۔

یاد رہے کہ ایران 2025 میں بھی اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد غیر ملکی اداروں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے قوانین کو مزید سخت کر چکا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button