متحدہ عرب امارات

دبئی کا مشہور میوزیم آف الیوژنز 8 سال بعد بند، شہریوں میں مایوسی کی لہر

خلیج اردو
دبئی کے معروف میوزیم آف الیوژنز نے تقریباً 8 سال بعد اپنے دروازے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد شہریوں نے سوشل میڈیا پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

بر دبئی کے تاریخی علاقے سوق السیف میں واقع میوزیم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ اس مقام پر اس کا سفر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

12 ستمبر 2018 کو قائم ہونے والے اس میوزیم نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران آنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں دوبارہ ملاقات کی امید رکھتے ہیں۔

دبئی کریک کے کنارے قائم یہ میوزیم کروشیا کے شہر زگریب میں 2015 میں شروع ہونے والے بین الاقوامی میوزیم آف الیوژنز نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

میوزیم میں 60 سے زائد بصری اور تعلیمی نمائشیں موجود تھیں، جن میں ہولوگرام، تھری ڈی تصویری نمائشیں، بصری دھوکے اور مختلف انٹرایکٹو کمرے شامل تھے۔ یہ تمام سرگرمیاں بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے یکساں طور پر دلچسپی کا باعث بنتی تھیں۔

میوزیم کے ٹکٹوں کی قیمت 40 درہم سے 370 درہم تک تھی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کے لیے خصوصی رعایتی نرخ بھی مقرر کیے گئے تھے۔

میوزیم کی بندش کی خبر سامنے آنے کے بعد شہریوں نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

ایک رہائشی یاسیل ایچ نے بتایا کہ دبئی منتقل ہونے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے اسی میوزیم کا دورہ کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک منفرد اور ذہن کو نئی سوچ دینے والا تجربہ تھا، جس نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ہر نظر آنے والی چیز حقیقت نہیں ہوتی۔

ایک اور رہائشی گیبریل فرانکو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اس میوزیم کا دورہ کرنا چاہتے تھے، لیکن اب انہیں یہ موقع نہیں مل سکے گا۔

سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے مطالبہ کیا کہ میوزیم کو کسی دوسرے مقام پر دوبارہ کھولا جائے تاکہ بچے ایک بار پھر اس منفرد اور تعلیمی تجربے سے لطف اندوز ہو سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button