
خلیج اردو
مصر میں خوراک کی حفاظت سے متعلق ایک حیران کن اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں حکام نے ایک غیر قانونی فیکٹری پر چھاپہ مار کر جعلی اوریو طرز کے بسکٹ تیار کرنے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
حکام کے مطابق قاہرہ کے شمال میں واقع صوبہ قلیوبیہ کے شہر کفر شکر میں قائم اس فیکٹری میں چاکلیٹ کے بجائے سبزیوں سے تیار کردہ کوئلے کا سیاہ رنگ استعمال کیا جا رہا تھا، جبکہ متعدد اشیا کی میعاد بھی ختم ہو چکی تھی۔
سرکاری حکام کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں فیکٹری کے اندر انتہائی ناقص صفائی کے انتظامات اور فرش پر رکھے گئے بسکٹ کے ڈبے بھی دکھائی دیے۔
چھاپے کے دوران حکام نے 100 کلوگرام میعاد ختم ہونے والا گلوکوز، 30 کلوگرام خراب مکھن اور سبزیوں کے کوئلے سے تیار کیا گیا سیاہ رنگ برآمد کر لیا۔
اس کے علاوہ 7 کلوگرام وزن کے 50 ڈبے جعلی اوریو بسکٹ اور دوبارہ پروسیسنگ کے لیے رکھے گئے 55 تھیلے بھی قبضے میں لے لیے گئے، جن کا مجموعی وزن تقریباً 1100 کلوگرام تھا۔
حکام کے مطابق ضبط کیے گئے خام مال اور تیار شدہ مصنوعات کا مجموعی وزن تقریباً 1.8 ٹن تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ فیکٹری میں آئس کریم بھی تیار کی جا رہی تھی اور پیداوار میں استعمال ہونے والے خام مال کی خریداری سے متعلق کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
قلیوبیہ کے گورنر حسام عبدالفتاح نے متعلقہ اداروں کو صوبے بھر میں خوراک سے متعلق معائنہ مہم مزید سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور متعدد صارفین نے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا۔
مصری قانون کے مطابق ملاوٹ شدہ، خراب یا میعاد ختم ہونے والی خوراک تیار کرنے یا فروخت کرنے والوں کو ایک سے پانچ سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ اگر خوراک انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو تو سزا بڑھا کر دو سے سات سال تک کی جا سکتی ہے۔







