متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں میزائل خطرے کا الرٹ، ایران سے تجارتی معطلی اور پروازوں پر اثرات کی مکمل تفصیل

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے 18 اگست کو پانچ ہفتوں سے زائد عرصے بعد دوبارہ میزائل خطرے کا الرٹ جاری کیا۔ حکام کے مطابق دفاعی نظام نے ممکنہ میزائل خطرے کی نشاندہی کی جس کے بعد شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی۔

یو اے ای وزارت دفاع کے مطابق دو بیلسٹک میزائل ملک کی جانب آ رہے تھے جنہیں دفاعی نظام نے ٹریک کیا۔ حکام نے بتایا کہ دونوں میزائل سمندر میں گر گئے اور کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

حکام کے مطابق پہلا میزائل یو اے ای کی سمندری حدود سے باہر گرا جبکہ دوسرا علاقائی پانیوں میں گرا۔ بعد کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ میزائلوں کا ہدف سمندری نقل و حرکت کو متاثر کرنا تھا۔

یو اے ای نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ میزائل ایران سے فائر کیے گئے تھے، تاہم ایران نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حملے کا ذمہ دار نہیں ہے۔

پروازوں پر کیا اثر پڑا؟

میزائل الرٹ کے باوجود یو اے ای کے ہوائی اڈے معمول کے مطابق کام کرتے رہے اور اندرون ملک فضائی آپریشن متاثر نہیں ہوا۔ تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث کچھ بین الاقوامی پروازوں کو منسوخ یا ری شیڈول کیا گیا ہے۔

ایمریٹس اور اتحاد ایئرویز کی خطے کے بعض ممالک، خصوصاً کویت اور بحرین جانے والی کچھ پروازیں علاقائی صورتحال سے متاثر ہوئیں۔

ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل

میزائل الرٹ کے چند گھنٹے بعد یو اے ای وزارت خارجہ نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالی لین دین معطل کرنے کا اعلان کیا۔

یو اے ای اور ایران کے درمیان جنگ سے پہلے مضبوط تجارتی تعلقات تھے۔ ایران یو اے ای کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل تھا اور خوراک سمیت مختلف اشیاء کی درآمدات کا اہم ذریعہ تھا۔

تاہم یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ مقامی پیداوار، متنوع درآمدی ذرائع اور برسوں کی منصوبہ بندی کے باعث موجودہ صورتحال میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی۔

یو اے ای کا ایران سے مطالبہ

یو اے ای نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے حملے فوری طور پر بند کرے جو خطے کے امن اور استحکام کو متاثر کر رہے ہیں۔ امارات نے آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کی حمایت بھی کی ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

موجودہ صورتحال محفوظ قرار

وزارت دفاع نے میزائل الرٹ ختم کرنے کے بعد اعلان کیا کہ ملک کی صورتحال محفوظ ہے۔ حکام کے مطابق یو اے ای کا دفاعی نظام خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے طے پانے والا 14 نکاتی مفاہمتی معاہدہ 17 اگست کو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button