
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 اگست کو ایک بیان میں کہا کہ وہ ایران کو شکست دینے کے بعد آبنائے ہرمز کو "جلد” امریکی سرزمین کا حصہ قرار دیں گے۔ چار دن بعد انہوں نے ایک نقشہ بھی جاری کیا جس میں اس اہم سمندری راستے کو "نیا امریکی علاقہ” قرار دیا گیا۔
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سمندری حدود میں واقع ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے جو خلیج عرب کو خلیج عمان سے ملاتی ہے۔ دنیا کی تقریباً 21 ملین بیرل تیل روزانہ اور عالمی ایل این جی تجارت کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکی کنٹرول میں ہے، تاہم ایران اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا، تاہم اس سے پہلے بھی وہ مختلف ممالک اور علاقوں کو امریکا کا حصہ قرار دینے کے بیانات دے چکے ہیں۔
گرین لینڈ
جنوری میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کو گرین لینڈ کے ان علاقوں پر خودمختاری حاصل کرنی چاہیے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
ٹرمپ کئی بار گرین لینڈ کو خریدنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم ڈنمارک واضح کر چکا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے دستیاب نہیں۔
گرین لینڈ تقریباً 21 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔
وینزویلا
مئی میں ٹرمپ نے ایک نقشہ شیئر کیا جس میں وینزویلا کو "51 ویں ریاست” کے طور پر دکھایا گیا اور اس پر امریکی پرچم بھی موجود تھا۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب امریکا اور وینزویلا کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی جاری تھی۔
کینیڈا
ٹرمپ کئی مواقع پر کینیڈا کو امریکا کی 51 ویں ریاست بنانے کی بات کر چکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کینیڈا کو بڑے پیمانے پر مالی مدد فراہم کرتا ہے اور کہا کہ اگر کینیڈا امریکا کا حصہ بن جائے تو وہاں ٹیکس کم اور دفاعی تحفظ زیادہ ہوگا۔
تاہم کینیڈین حکومت نے اس تجویز کو مسترد کیا ہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق دعوے نے خاص طور پر خطے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔







