متحدہ عرب امارات

یو اے ای نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالی لین دین معطل کر دیے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے علاقائی جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری تبادلے اور مالی لین دین عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔

یو اے ای وزارت خارجہ کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر عفرا الہمیلی نے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ "علاقائی کشیدگی کے باعث کیا گیا ہے جس نے خطے اور عالمی امن و سلامتی کو متاثر کیا ہے”۔

انہوں نے یو اے ای اور ایران کے درمیان اقتصادی تعلقات سے متعلق تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کے حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب 18 اگست کو یو اے ای کے دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کو ٹریک کیا۔ حکام کے مطابق ایک میزائل ملک کی حدود سے باہر گرا جبکہ دوسرا یو اے ای کے علاقائی پانیوں میں گرا۔

اس واقعے کے بعد پانچ ہفتوں سے زائد عرصے میں پہلی بار شہریوں کے موبائل فونز پر ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا، جو چند منٹ بعد ختم کر دیا گیا۔ وزارت دفاع نے بعد میں بتایا کہ میزائل حملوں کا ہدف سمندری نقل و حرکت تھی۔

خطے میں جاری کشیدگی

28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد یو اے ای کو ایران کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق ملک کی طرف تقریباً 3 ہزار میزائل اور ڈرونز بھیجے گئے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے بعد کچھ عرصے تک یو اے ای کو دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں کم حملوں کا سامنا رہا، تاہم حالیہ کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔

آبنائے ہرمز پر تنازع

خطے میں کشیدگی کا ایک بڑا مرکز آبنائے ہرمز بھی ہے۔ امریکا اور ایران دونوں اس اہم سمندری راستے پر اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو "نیا امریکی علاقہ” ظاہر کرنے والا نقشہ شیئر کیا، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔

دوسری جانب سفارتی کوششوں کے امکانات بھی کمزور نظر آ رہے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان نہ کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں مذاکرات کا کوئی منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button