
خلیج اردو
کویت نے ماہرین نفسیات اور نفسیاتی مشیروں کو سائنس اور طبی شواہد سے ثابت نہ ہونے والے علاج کی پیشکش یا تشہیر سے روک دیا ہے۔
کویت کے وزیر صحت ڈاکٹر احمد العوضی نے وزارتی فیصلہ نمبر 225 برائے 2026 جاری کیا ہے جس کے تحت ملک میں سائیکوتھراپی اور نفسیاتی مشاورت کے لیے نیا ضابطہ متعارف کرایا گیا ہے۔ فیصلے میں خصوصی مراکز کے قیام، لائسنس، تربیت اور دفاتر سے متعلق شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں۔
نئے ضابطے کے تحت ایسے تمام علاج یا طریقوں کی فراہمی اور تشہیر پر مکمل پابندی ہوگی جو سائنسی شواہد پر مبنی نہیں۔ ان میں انرجی ہیلنگ، ریکی، پرانک ہیلنگ، پتھروں اور کرسٹلز سے علاج، روحانی اور کائناتی علاج، آسٹرل پروجیکشن، چکرز اور اورا ایکٹیویشن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ نیورو لنگوسٹک پروگرامنگ، مثبت تصدیقی جملوں کے ذریعے علاج، ذہنی اور نفسیاتی انجینئرنگ، قانونِ کشش تھراپی، گرافولوجی، باڈی لینگویج اینالیسس اور ٹائم لائن تھراپی پر بھی پابندی ہوگی۔
ضابطے میں Emotional Freedom Techniques (EFT)، ٹیپنگ، کلر تھراپی، فریکوئنسی اور ساؤنڈ وائبریشن تھراپی، نفسیاتی یوگا اور مراقبے کے لیے سانس کی مخصوص تکنیکوں کو بھی غیر سائنسی طریقوں میں شامل کیا گیا ہے۔
لائف کوچنگ اور سیلف ڈویلپمنٹ کو بھی ضابطے کے دائرے میں لاتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یہ خدمات منظور شدہ پیشہ ورانہ لائسنس کے بغیر فراہم نہیں کی جاسکیں گی۔
نئے قواعد کے تحت غیر ڈاکٹر پریکٹیشنرز ادویات، دواؤں یا سپلیمنٹس تجویز یا ان کی مقدار میں تبدیلی بھی نہیں کرسکیں گے۔ الیکٹرو کنولسیو تھراپی (ECT) اور مقناطیسی و اعصابی تحریک کی تمام تکنیکیں بھی صرف ماہر ڈاکٹروں تک محدود کردی گئی ہیں۔
کویت کی وزارت صحت کے مطابق خودکشی کے خیالات یا شدید علامات کی صورت میں غیر طبی پریکٹیشنرز کے لیے ضروری ہوگا کہ مریض کو فوری طور پر ہسپتال یا ماہر نفسیات کے پاس بھیجا جائے۔
لائسنس کے عمل میں موجود دفاتر کو نئے ضوابط پر عملدرآمد کے لیے 6 ماہ جبکہ سرکاری شعبے کو 18 ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔







