متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں شدید گرمی کے خاتمے کی نوید، سہیل ستارہ طلوع ہوگیا مگر دھند اور نمی کے باعث نظر نہ آسکا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی کے خاتمے کی جانب اہم موسمی تبدیلی کا آغاز ہوگیا، سہیل ستارہ 24 اگست کو سالانہ حساب کے مطابق طلوع ہوگیا تاہم زیادہ نمی اور دھند کے باعث اسے صبح کے وقت واضح طور پر نہیں دیکھا جاسکا۔

امارات فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان کے مطابق سہیل ستارے کے طلوع ہونے کی تاریخ تقریباً ہر سال مقرر رہتی ہے، تاہم اسے آنکھ سے دیکھنے کے لیے موسم کا صاف ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران سہیل ستارہ عموماً 26 سے 28 اگست کے درمیان نظر آیا جبکہ 24 اگست کو اس کی واضح رویت انتہائی کم ہوئی ہے۔

الجروان کے مطابق رواں سال نمی 80 فیصد یا اس سے زیادہ رہی جبکہ دھند، گردوغبار اور مصنوعی روشنی نے بھی ستارے کو دیکھنے میں رکاوٹ ڈالی، تاہم موسم صاف رہا تو 28 اگست کے بعد شہری سہیل کو کھلی آنکھ سے دیکھ سکیں گے۔

سہیل ستارے کا طلوع ہونا روایتی طور پر شدید گرمی کے بتدریج خاتمے اور موسم میں تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے، تاہم ستارے کے طلوع ہوتے ہی درجہ حرارت میں اچانک کمی نہیں آتی۔

سہیل کے طلوع ہونے کے بعد تقریباً 40 روزہ عبوری دور صفریہ شروع ہوتا ہے جس دوران موسم بتدریج شدید گرمی سے نسبتاً ٹھنڈے حالات کی جانب بڑھتا ہے، اس تبدیلی کا اثر ابتدا میں رات کے وقت محسوس ہوتا ہے جبکہ دن کے درجہ حرارت ستمبر تک بلند رہ سکتے ہیں۔

الجروان کے مطابق اگست کے آخری ہفتے میں سہیل صبح سویرے نظر آتا ہے، نومبر میں یہ تقریباً نصف شب کے وقت دکھائی دیتا ہے جبکہ فروری سے اپریل کے دوران شام کے وقت بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

امارات کے روایتی فلکیاتی کیلنڈر الدور میں بھی سہیل کو اہم مقام حاصل ہے، قدیم زمانے میں اس نظام کے ذریعے کاشت کاری، بارشوں، ہواؤں، ماہی گیری اور پرندوں کی نقل مکانی سمیت مختلف موسمی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔

ماہرین کے مطابق سہیل کا طلوع ہونا موسم سرما کی فوری آمد نہیں بلکہ موسم کی بتدریج تبدیلی کا آغاز ہے، جبکہ موسم اکتوبر کے وسط کے قریب مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button