
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی صحافتی برادری معروف صحافی اور اخبار الفجر کے بانی و چیف ایڈیٹر عبید حمید المزروعی کے انتقال پر سوگوار ہے، وہ آج صبح 90 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
عبید حمید المزروعی 1935 میں عجمان میں پیدا ہوئے، انہوں نے عملی زندگی کا آغاز سعودی عرب کے شعبہ تیل سے کیا جس کے بعد بینکاری کے شعبے سے وابستہ رہے اور پھر صحافت کا رخ کیا۔
1974 میں انہیں اخبار الفجر شائع کرنے کا لائسنس ملا اور اخبار کا پہلا شمارہ 17 مارچ 1975 کو شائع ہوا، الفجر نے متحدہ عرب امارات کے قیام کے ابتدائی برسوں سے ملک کی ترقی اور تبدیلیوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
الفجر کا آغاز ہفت روزہ اخبار کے طور پر ہوا اور 1978 میں اسے روزنامے میں تبدیل کردیا گیا، اخبار نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک اماراتی میڈیا میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔
عبید المزروعی صرف صحافت تک محدود نہیں رہے بلکہ شاعر اور ادیب بھی تھے اور ثقافت، ادب، شاعری اور اماراتی ورثے سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
انہوں نے الفجر کے ذریعے ادبی اور شعری سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا، اخبار کے فجر الشعرا نامی خصوصی ضمیمے نے امارات، خلیج اور عرب دنیا کے شعرا اور ادبی صلاحیتوں کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
عبید حمید المزروعی نے کئی تصانیف بھی چھوڑیں جن میں احداث الزمان وارکان البنیان اور عقد اللآلئ فی المدح والبیان شامل ہیں۔
اماراتی صحافتی اور ادبی حلقوں نے عبید المزروعی کو قومی صحافت کے ابتدائی معماروں میں شمار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے، ان کا صحافتی سفر صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری اور امارات کی تاریخ و ثقافت کو محفوظ کرنے کا مشن تھا۔






