
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں نئے تعلیمی سال کا آغاز 31 اگست سے ہوگا، ماہرین کے مطابق اسکول کے پہلے چند دنوں میں بچوں کا تھکاوٹ محسوس کرنا معمول کی بات ہے
گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران دیر سے سونے اور جاگنے کے بعد بچوں کو اچانک صبح جلدی اٹھنے، کئی گھنٹوں تک توجہ مرکوز رکھنے، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور نئے اساتذہ و کلاس رومز کے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں وقت لگ سکتا ہے
برائٹن کالج دبئی کے سربراہ سائمن کرین کے مطابق پہلے چند دنوں میں بچوں کا تھکاوٹ کا شکار ہونا بالکل معمول ہے، والدین کو بچوں سے فوری طور پر مکمل کارکردگی کی توقع کرنے کے بجائے انہیں اسکول کے معمول میں واپس آنے کا وقت دینا چاہیے
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ سونے اور جاگنے کے اوقات بتدریج معمول پر لائے جائیں، صبح کا وقت پرسکون رکھا جائے اور بچوں کو متوازن غذا اور مناسب مقدار میں پانی فراہم کیا جائے
ماہر اطفال ڈاکٹر جوبی جیکب کے مطابق گرمیوں کے دوران بچوں کی نیند کا معمول ان کی جسمانی گھڑی کو متاثر کرسکتا ہے جبکہ نئے اساتذہ، دوستوں اور اسکول کے ماحول سے دوبارہ مطابقت پیدا کرنے میں بھی اضافی توانائی خرچ ہوتی ہے
انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر بچے کے سونے کا وقت اسکول کے معمول کے مطابق نہیں ہے تو اسے روزانہ تقریباً 15 منٹ پہلے کرنے کی کوشش کی جائے جبکہ ہفتے کے اختتام پر بہت دیر تک سونے سے گریز کیا جائے
ماہرین نے بچوں کے لیے پروٹین سے بھرپور ناشتہ، مقررہ اوقات میں کھانا اور پانی کا باقاعدہ استعمال یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ سونے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون اور دیگر برقی آلات بند کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے
اسکول کے بعد پہلے ایک سے دو ہفتوں کے دوران بچوں کے معمولات کو زیادہ مصروف نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، ماہرین کے مطابق بچوں کو گھر پہنچنے کے بعد 20 سے 30 منٹ آرام کا وقت دیا جائے اس کے بعد ہوم ورک یا دیگر سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے
دیافہ انٹرنیشنل اسکول ابوظہبی کی پرنسپل نکول ہینز نے کہا کہ والدین کو بچوں کے معمولات میں نرمی کے ساتھ مستقل مزاجی اپنانا چاہیے اور فوری طور پر بہترین کارکردگی کی توقع نہیں کرنی چاہیے
ماہرین کے مطابق نئے اسکول یا نئی جماعت میں منتقلی بچوں کے لیے مشکل ہوسکتی ہے، اس لیے والدین کو بچوں کے جذبات سننے، مناسب آرام دینے اور انہیں نئے معمول میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے وقت دینا چاہیے
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ضروری اسکول کے کام کو مکمل کرنے کے لیے بچوں کی نیند پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور ہوم ورک کے دوران مختصر وقفوں کے ساتھ کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا بہتر ہے







