
خلیج اردو
شارجہ کے حکمران ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے ریاست میں نئی اصلاحی جیل کے قیام کا اعلان کردیا اور جیلوں کے انتظام اور قیدیوں کے حقوق سے متعلق نیا قانون جاری کردیا
نئے قانون کا مقصد اصلاحی جیل کی عمومی پالیسی وضع کرنا، سکیورٹی یقینی بنانا اور قیدیوں کی اصلاح و بحالی کے لیے مؤثر نظام قائم کرنا ہے
قانون میں سماجی تحفظ کے اصول کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے تاکہ سزاؤں پر عملدرآمد کے ذریعے معاشرے کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے
شارجہ کے حکمران کی ہدایت کے تحت اصلاحی اداروں میں قیدیوں کے وقار اور حقوق کے تحفظ کے ساتھ محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا
اداروں میں قید کی سزا کاٹنے والے افراد کی سماجی، نفسیاتی اور ثقافتی بنیادوں پر اصلاح اور بحالی پر بھی توجہ دی جائے گی
نئے قانون کا اطلاق اصلاحی جیل کے علاوہ ان تمام اداروں اور مراکز پر بھی ہوگا جو اسی مقصد کے لیے قائم کیے جائیں گے جبکہ ایسے مقامات بھی قانون کے دائرے میں ہوں گے جہاں عدالتی حکم پر زیرحراست افراد کو رکھا جاتا ہے
نئی اصلاحی جیل
شارجہ شہر میں اصلاح و بحالی کے لیے ایک مقامی اصلاحی ادارہ قائم کیا جائے گا جو انتظامی اور مالی طور پر شارجہ پولیس سے منسلک ہوگا
ادارے کا مرکزی دفتر شارجہ میں قائم کیا جائے گا جبکہ کمانڈر انچیف کو ریاست کے دیگر شہروں اور علاقوں میں اس کی شاخیں قائم کرنے یا مقامات مختص کرنے کا اختیار ہوگا
قانون کے تحت اصلاحی ادارے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا
مردوں کے لیے اصلاحی جیل
خواتین کے لیے اصلاحی جیل
نابالغ افراد کے لیے مرکز جہاں قید یا حراست کی سزا پانے والے افراد کو رکھا جائے گا اور مرد و خواتین کو الگ رکھا جائے گا
نئے قانون میں اصلاحی ادارے کی تعمیر، نگرانی اور انتظام سمیت تمام امور کے لیے قانونی ضوابط وضع کیے گئے ہیں
قیدیوں کا ڈیٹا، تلاشی کے طریقہ کار، ملاقات کے انتظامات، قیدیوں کی داخلہ کارروائی، ان کے حقوق، صحت کی سہولیات، سماجی نگہداشت، تعلیم اور آگاہی کے معاملات بھی نئے نظام کے تحت منظم کیے جائیں گے
قیدیوں کی خلاف ورزیوں اور تادیبی سزاؤں، رہائی کے طریقہ کار، مختلف عمروں کے قیدیوں کے لیے ضوابط اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بھی قانون میں تفصیلی دفعات شامل کی گئی ہیں







