
خلیج اردو
دبئی میں شیئرڈ ہاؤسنگ سے متعلق نیا قانون اگست کے آخر میں نافذ ہونے جا رہا ہے جس کے تحت خاندانوں کے ساتھ ساتھ سنگل مرد اور خواتین بھی قانونی طور پر مشترکہ رہائش اختیار کرسکیں گے۔
نئے قانون کے تحت شیئرڈ ہاؤسنگ کے لیے 6 کیٹیگریز مقرر کی گئی ہیں:
- خاندان
- انفرادی خواتین
- انفرادی مرد
- طالبات
- طلبہ
- سرکاری ملازمین اور نجی کمپنیوں و اداروں کے کارکنان
قانون کے مطابق شیئرڈ ہاؤسنگ میں رہائشیوں یا خاندانوں کے لیے الگ جگہ مختص ہوگی جبکہ کچن، ڈائننگ ایریا، باتھ روم اور بیرونی جگہوں جیسی مشترکہ سہولیات استعمال کی جائیں گی۔
رہائش کے لیے اپارٹمنٹس، الگ مکانات، رہائشی کمپلیکس، مکسڈ یوز عمارتیں، ٹاؤن ہاؤسز اور کثیر المنزلہ عمارتیں استعمال کی جاسکیں گی، تاہم ہر پراپرٹی کو اجازت نامے، رہائش کی گنجائش، پلاننگ اور حفاظتی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
کرایہ ماہانہ اور پیشگی ادا کرنا ہوگا
نئے قانون کے تحت کرایہ ماہانہ اور پیشگی ادا کرنا عمومی اصول ہوگا۔ تاہم مالک مکان اور رہائشی باہمی رضامندی سے مختلف ادائیگی کا طریقہ طے کرسکتے ہیں اور اسے کرایہ داری معاہدے میں درج کرنا ہوگا۔
شیئرڈ ہاؤسنگ کے تمام کرایہ داری معاہدے اور ان میں ہونے والی ترامیم Shared Accommodation Registry میں رجسٹر کرنا ضروری ہوگا۔
بجلی اور پانی کا بل بھی کرائے میں شامل
بجلی اور پانی کے اخراجات بھی بطور ڈیفالٹ کرائے میں شامل ہوں گے، تاہم فریقین مختلف انتظام پر اتفاق کرسکتے ہیں۔ اگر بل الگ ادا کرنے کا فیصلہ ہو تو بھی متعلقہ یوٹیلیٹی کمپنی کو ادائیگی کی ذمہ داری مالک مکان کی ہوگی۔
دوست یا رشتہ دار رات گزار سکتے ہیں؟
قانون میں عام سماجی مہمانوں کی آمد پر واضح پابندی نہیں لگائی گئی۔ تاہم رہائشی اپنے مختص حصے میں کسی دوسرے شخص کو مستقل طور پر رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور سب لیٹنگ بھی ممنوع ہوگی۔
کسی دوست یا رشتہ دار کا کبھی کبھار آنا مختلف معاملہ ہے، لیکن اگر کوئی شخص مستقل طور پر وہاں رہنے لگے، اپنا سامان رکھے اور اس جگہ کو اپنا گھر استعمال کرے تو اسے رہائشی تصور کیا جاسکتا ہے۔
شیئرڈ ہاؤسنگ کو کیوں ریگولیٹ کیا گیا؟
دبئی حکومت نے مارچ میں قانون کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کا مقصد اوور کراوڈنگ اور غیر رسمی رہائش کی روک تھام، محفوظ اور صحت مند رہائشی ماحول، مالکان اور رہائشیوں کے حقوق کا تحفظ اور غیر قانونی تعمیرات و زمین کے استعمال کی خلاف ورزیوں کا سدباب کرنا ہے۔
قانون پورے دبئی میں نافذ ہوگا، جس میں فری زونز اور نجی ڈویلپمنٹ زونز بھی شامل ہیں۔ تاہم اجتماعی لیبر رہائش اس قانون سے مستثنیٰ ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی پراپرٹی کو شیئرڈ ہاؤسنگ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے مخصوص اجازت نامہ ضروری ہوگا۔







