
خلیج اردو
دبئی میں جاری ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں متحدہ عرب امارات نے انڈونیشیا کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں برقرار رکھیں۔
گروپ مرحلے کے اپنے پہلے میچ میں سری لنکا کے ہاتھوں 9 وکٹوں سے شکست کے بعد یو اے ای نے شاندار کم بیک کیا۔ یو اے ای کی بولرز نے انڈونیشیا کی پوری ٹیم کو صرف 71 رنز پر آؤٹ کیا جس کے بعد ہدف 13.1 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
کپتان عائشہ اوزا نے آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 وکٹیں حاصل کیں اور اوپنر کی حیثیت سے 30 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ لیفٹ آرم اسپنر حنا ہاٹچندانی نے بھی شاندار بولنگ کرتے ہوئے صرف 6 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔
انڈونیشیا کی جانب سے نی پوتو آیو نندا سکارینی نے سب سے زیادہ 39 رنز بنائے جبکہ یو اے ای کی جانب سے سورکشا کوٹے نے 16 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
یو اے ای کی یہ ویمنز ایشیا کپ کی تاریخ میں صرف دوسری کامیابی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے 2022 میں ایشیا کپ میں ڈیبیو کیا تھا اور اسی ایڈیشن میں ملائیشیا کے خلاف اپنی پہلی فتح حاصل کی تھی۔ 2024 کے ایڈیشن میں یو اے ای کو نیپال، پاکستان اور بھارت کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انڈونیشیا کے خلاف کامیابی کے بعد یو اے ای کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں دوبارہ روشن ہوگئی ہیں تاہم اس کے لیے اسے منگل کو اپنے آخری گروپ میچ میں تجربہ کار بنگلہ دیش کو شکست دینا ہوگی۔
دو میچز میں دو پوائنٹس کے ساتھ یو اے ای گروپ بی میں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ بنگلہ دیش بھی دو پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ بہتر نیٹ رن ریٹ کے باعث بنگلہ دیش کو برتری حاصل ہے جبکہ سری لنکا چار پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔
یو اے ای کی کھلاڑی حنا ہاٹچندانی کا کہنا ہے کہ گھریلو میدان پر اہلخانہ کے سامنے کامیابی حاصل کرنا ٹیم کے لیے بہت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کامیابی کا مارجن نہیں بلکہ فتح حاصل کرنا پہلی ترجیح تھی اور اس جیت سے ٹیم کا اعتماد بڑھا ہے۔
حنا ہاٹچندانی نے کپتان عائشہ اوزا کو ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت، بیٹنگ اور بولنگ پوری ٹیم کے لیے متاثر کن ہے۔
یو اے ای کی سیمی فائنل میں رسائی کے لیے سری لنکا اور بنگلہ دیش کے درمیان اتوار کو ہونے والا میچ بھی اہم ہوگا۔ اگر سری لنکا بنگلہ دیش کو شکست دے دیتا ہے تو یو اے ای کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔







