متحدہ عرب امارات

ابوظہبی عدالت کا اہم فیصلہ، بچوں کی نجی اسکول فیس ادا نہ کرنے والے والد کو 1 لاکھ 97 ہزار 680 درہم ادا کرنے کا حکم

خلیج اردو
ابوظہبی کمرشل کورٹ آف فرسٹ انسٹنس نے بچوں کی نجی اسکول کی فیس ادا نہ کرنے والے والد کو اسکول کے واجب الادا 1 لاکھ 97 ہزار 680 درہم ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ایک خاتون کے بینک اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے چیک کی رقم 1 لاکھ 42 ہزار 800 درہم تھی۔ عدالت نے خاتون کو بھی اس رقم کی ادائیگی میں والد کے ساتھ مشترکہ طور پر ذمہ دار قرار دیا۔

دونوں افراد کو اسکول کو مزید 3 ہزار درہم بطور ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے جبکہ عدالتی اخراجات اور 200 درہم قانونی فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق والد نے اپنے بچوں کو نجی اسکول میں داخل کرایا تھا تاہم واجب الادا ٹیوشن فیس ادا نہیں کی گئی۔ بعد ازاں بقایا رقم کے ایک حصے کے لیے اسکول کو چیک دیا گیا جو خاتون کے بینک اکاؤنٹ سے جاری ہوا تھا۔

تاہم چیک ایسی صورت میں تیار کیا گیا تھا جس کے باعث اسے کیش نہیں کرایا جاسکا اور بینک نے ادائیگی روک دی۔

اسکول نے عدالت سے والد سے 1 لاکھ 97 ہزار 680 درہم کی رقم وصول کرنے کے ساتھ خاتون کو 1 لاکھ 42 ہزار 800 درہم کے چیک کی رقم میں مشترکہ طور پر ذمہ دار قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ اسکول نے 15 ہزار درہم ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

اپنے مؤقف کے حق میں اسکول نے غیر ادا شدہ فیس کی انوائسز اور اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹس، باؤنس ہونے والے چیک کی نقل، چیک واپس کیے جانے کا ثبوت اور متعلقہ فوجداری مقدمے کے فیصلے کی کاپی عدالت میں پیش کی۔

خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس تنازع کا حصہ نہیں اس لیے اس کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کردیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ چیک خاتون کے اکاؤنٹ سے اسکول کے نام جاری کیا گیا تھا اور خاتون یہ ثابت کرنے میں ناکام رہیں کہ رقم ادا کردی گئی ہے یا وہ اس ادائیگی کی ذمہ داری سے بری ہوچکی ہیں۔

والد بھی اسکول کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں کو مؤثر انداز میں چیلنج نہ کرسکا اور یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ بچوں کی ٹیوشن فیس پہلے ہی ادا کی جاچکی ہے۔

عدالت نے والد کو 1 لاکھ 97 ہزار 680 درہم اسکول کو ادا کرنے کا حکم دیا جبکہ خاتون کو 1 لاکھ 42 ہزار 800 درہم کی رقم میں اس کے ساتھ مشترکہ طور پر ذمہ دار قرار دیا گیا۔

عدالت نے دونوں کو مشترکہ طور پر 3 ہزار درہم ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا جبکہ عدالتی اخراجات اور 200 درہم قانونی فیس بھی عائد کی گئی۔ اسکول کی جانب سے کیے گئے دیگر مطالبات عدالت نے مسترد کردیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button